افغانستان: معاشی بدحالی کا شکار خاندانوں کو خوارک کی ہنگامی فراہمی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے گزشتہ نو مہینوں میں افغانستان کے 37 ہزار گھرانوں پر مشتمل دو لاکھ 60 ہزار لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد فراہم کی ہے۔
اس امداد کی فراہمی میں انتہائی بدحال خاندانوں کو ترجیح دی گئی جن میں ایسے گھرانے بھی شامل ہیں جن میں روزی کمانے والے بالغ مرد نہ ہونے کے باعث خواتین کو بچوں اور بوڑھوں کا پیٹ پالنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایسے گھرانے بھی ترجیحی بنیادوں پر مدد کے مستحق قرار پائے ہیں جن کے ارکان کی تعداد نو یا اس سے زیادہ ہے اور جن میں جسمانی معذوری کے حامل معمر لوگ بھی شامل ہیں۔
بے گھر خاندانوں اور ایسے لوگوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر یہ امداد فراہم کی گئی ہے جن کے پاس اپنی بقا کے لیے بھیک مانگنے یا ادھار لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اسلامی ترقیاتی بینک کی امداد
یہ مدد افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق ٹرسٹ فنڈ (اے ایچ ٹی ایف) کی جانب سے مہیا کردہ 32 لاکھ ڈالر کی بدولت مہیا کی گئی۔ یہ فنڈ اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے زیرانتظام ہے اور اسے سعودی عرب میں انسانی امداد کے شاہ سلمان مرکز (کے ایس ریلیف) نے قائم کیا ہے۔
اسلامی ترقیاتی بینک کے ترکیہ میں علاقائی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید عبدالوہاب نے کہا ہےکہ ان کے ادارے کو 'ڈبلیو ایف پی' کی جانب سے افغانوں کو دی جانے والی مدد کے مثبت اثرات دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ یہ امداد افغانستان کے لوگوں کا ساتھ دینے، ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور خودانحصاری کے فروغ دینے کے کام سے 'اے ایچ ٹی ایف' اور 'کے ایس ریلیف' کی لگن کو واضح کرتی ہے۔
چار ہزار ٹن خوراک کی فراہمی
'ڈبلیو ایف پی' نے ان لوگوں کے لیے تقریباً چار ہزار میٹرک ٹن خوراک خریدی ہے جس میں گندم کا مقوی آٹا، زرد مٹر، سبزی کا مقوی تیل اور نمک شامل ہیں۔ عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی بدولت ادارے کو سابقہ اندازوں کے مقابلے میں مزید ایک تہائی خوراک خریدنے میں مدد ملی۔ اس طرح ملک بھر میں مزید ضرورت مند لوگوں تک رسائی ممکن ہوئی جہاں اس وقت ایک تہائی آبادی کو بھوک کا سامنا ہے۔
اس مدد سے صوبہ بادغیس، بامیان، فرح، غور، ہلمند، ہرات، کابل، قندھار، کپسیا، خوست، کنڑ، لغمان، ننگرہار، نورستان، پکتیکا اور ارزگان میں رہنے والے خاندانوں کو خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیا میسر آئی ہیں۔ جن لوگوں نے یہ مدد وصول کی ان میں سے تقریباً نصف نے قابل قبول سطح پر اس خوراک سے استفادہ کیا جو کہ اس امداد کی تقسیم سے قبل ادارے کے تجزیے سے مطابقت رکھتی ہے۔
غذائی تحفظ میں بہتری
افغانستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی کنٹری ڈائریکٹر سیاؤ وی لی نے کہا ہےکہ 2021 اور 2022 میں شدید ترین درجے کی بھوک کے بعد افغانستان میں غذائی تحفظ کی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے جس میں اسے بڑی مقدار میں دی جانے والی انسانی امداد کا اہم کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک جیسے شراکت داروں کے فیاضانہ عطیات کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا۔
2023 میں 'ڈبلیو ایف پی' نے افغانستان میں اپنے تمام پروگراموں کے تحت ایک کروڑ 86 لاکھ لوگوں کو چھ لاکھ میٹرک ٹن خوراک اور 18 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی نقد امداد مہیا کی تھی۔ یہ مدد حاصل کرنے والے لوگوں میں 93 لاکھ خواتین اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایک کروڑ 10 لاکھ بچوں اور 58 لاکھ معذور افراد بھی اس امداد سے مستفید ہوئے۔