جنگوں، وباء اور مہنگائی سے بھوک کے خلاف جدوجہد 15 سال پیچھے رہ گئی
عالمگیر بھوک پر قابو پانے کی جدوجہد میں ہونے والی پیش رفت کئی عوامل کے باعث 15 برس پیچھے چلی گئی ہے۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں 73 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا۔
عالمی سطح پر غذائی تحفظ اور غذائیت کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2030 تک بھوک، غذائی عدم تحفظ اور خوراک کی قلت سے چھٹکارا پانے کے ہدف کا حصول فی الوقت ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو توریرو کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رحجانات برقرار رہے تو 2030 میں 58 کروڑ 20 لاکھ لوگ بھوکے ہوں گے جن کی ںصف تعداد افریقہ میں ہو گی۔ اس وقت دنیا بھر میں ہر 11 افراد میں سے ایک کو بھوک کا سامنا ہے جبکہ افریقہ میں ہر پانچ میں سے ایک فرد اس صورتحال سے دوچار ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ دنیا بھر میں بچوں کی جسمانی نشوونما میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ماں کا دودھ پینے والے نومولود بچوں کی شرح بھی بڑھ گئی ہے تاہم متواتر تین برس سے بھوک کی سطح میں کوئی کمی نہیں آئی۔2023 میں خوراک کی کمی کا شکار لوگوں کی تعداد 71 کروڑ 30 لاکھ اور 75 کروڑ 70 لاکھ کے درمیان ریکارڈ کی گئی جبکہ 2019 میں یہ تعداد 15 کروڑ 20 لاکھ تھی۔
یہ رپورٹ ایف اے او، بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی فاد)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مشترکہ طور پر شائع کی ہے۔
مہنگائی، جنگیں اور موسمیاتی تبدیلی
چھوٹی عمر کے بچوں میں ماؤں کا دودھ پینے والوں کی شرح بڑھ کر 48 فیصد تک جا پہنچی ہے لیکن کم وزنی کا شکار نومولود بچوں کی شرح 15 فیصد پر برقرار ہے۔ نشوونما میں رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جو اب 22.3 فیصد رہ گئی ہے تاہم اس حوالے سے طے شدہ ہدف کو دیکھا جائے تو یہ تعداد بہت کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین میں جسمانی کمزوری اور خون کی کمی پر قابو پانے میں معمولی پیش رفت دیکھی گئی ہے جبکہ بالغوں میں موٹاپا بدستور بڑھ رہا ہے جو 2022 میں 15.8 فیصد پر پہنچ گیا تھا۔ اندازے کے مطابق یہی صورتحال برقرار رہی تو 2030 تک 1.2 ارب لوگ موٹاپے کا شکار ہوں گے۔
رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہےکہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی گراوٹ جیسے مسائل کی موجودگی میں یہ اعدادوشمار غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے مخصوص اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔
کرونا وائرس اور بھوک
2020 میں دنیا بھر میں 1.68 ارب لوگ صحت بخش خوراک تک رسائی نہیں رکھتے تھے۔ نچلے متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک مں ایسے لوگوں کی تعداد میں 59 فیصد اضافہ ہوا۔ توریرو بڑے پیمانے پر دیکھی جانے والی عدم مساوات کا ذمہ دار کووڈ۔19 کو ٹھہراتے ہیں۔
2022 تک بالائی متوسط اور بلند درجے کی آمدنی والے ممالک میں صحت بخش خوراک کے حصول کی استطاعت نہ رکھنے والے لوگوں کی تعداد قبل از وبا دور کے مقابلے میں کم ہو گئی تھی۔ دوسری جانب 2022 تک کم آمدنی والے ممالک میں حسب ضرورت صحت بخش خوراک کے حصول کی استطاعت نہ رکھنے والے لوگوں کی تعداد میں 2017 کے بعد سب سے بڑا اضافہ دیکھا گیا۔
افریقہ میں بھوک کا غلبہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افریقہ میں بھوک متواتر بڑھ رہی ہے اور براعظم کی 20.4 فیصد آبادی کو کسی نہ کسی درجے کی بھوک کا سامنا ہے۔
میکسیمو توریرو نے کہا ہے کہ اس براعظم کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر گھمبیر ہے کیونکہ یہ واحد خطہ ہے جہاں جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی گراوٹ جیسے تینوں بڑے عوامل بھوک پیدا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، براعظم ایشیا میں بھوک کی شرح 8.1 فیصد پر برقرار ہے۔ لاطینی امریکہ میں صورتحال قدرے بہتر ہے جہاں 6.2 فیصد آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ 2022 سے 2023 تک مغربی ایشیا، غرب الہند اور افریقہ کے بیشتر ذیلی خطوں میں غربت کی شرح میں اضافے کا مشاہدہ کیا گیا۔
خوراک کی قلت
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اربوں لوگوں کو ضرورت کے مطابق خوراک تک رسائی نہیں ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 2.33 ارب لوگوں کو متعدل یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا اور یہ تعداد کووڈ وبا کے دوران اس مسئلے سے دوچار لوگوں کی تعداد کے برابر ہے۔
غذائی تحفظ کے معاملے میں لاطینی امریکہ کی صورتحال میں قدرے بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ افریقہ میں 58 فیصد آبادی معتدل یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2022 میں 2.8 ارب لوگوں کو صحت بخش خوراک تک رسائی نہیں تھی۔ اس حوالے سے بلند اور نچلے درجے کی آمدنی والے ممالک میں نمایاں فرق پایا گیا۔ امیر ممالک میں 6.3 فیصد لوگ اس مسئلے سے دوچار تھے جبکہ غریب ممالک کی آبادی میں ان کی شرح 71.5 فیصد تھی۔
مالی وسائل کی ضرورت
رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ غذائی عدم تحفظ پر قابو پانے کے لیے نظام ہائے خوراک میں تبدیلی، عدم مساوات سے نمٹنے اور صحت بخش خوراک کو سستی اور قابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے۔
میکسیمو توریرو کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے اس مسئلے اور اس سے نمٹنے کے موزوں و موثر اقدامات کی وضاحت ضروری ہے۔ اسی صورت عطیہ دہندگان کے لیے شفافیت میں اضافہ اور مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق وضاحت ہو سکے گی۔ زرعی غذائی نظام کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث لاحق ہونے والے خطرات اور غیریقینی حالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عطیہ دہندگان کو مالی وسائل کی فراہمی کے وقت ایسے خدشات کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو اور یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ بھوک اور غذائی قلت کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھوس سرمایہ کاری درکار ہو گی جس سے ناصرف مستقبل میں غذائی تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ یہ سبھی کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔