برکینا فاسو: مسلح گروہوں میں جاری تصادم سے وسیع نقل مکانی کا خدشہ
برکینا فاسو کے مشرقی علاقے میں غیرریاستی مسلح گروہوں کے حملوں سے جان بچا کر ہزاروں لوگ ہمسایہ ملک نیجر کا رخ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ہنگامی حالات میں نقل مکانی کا بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والے ان حملوں کے بعد ہزاروں لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر نیجر کے علاقے ٹلابیری کی جانب نقل مکانی کی ہے جہاں انسانی حالات پہلے ہی خراب ہیں۔ وہاں پناہ گزین کی حیثیت سے قبول نہ کیے جانے کی صورت میں انہیں جبراً ملک بدر کیے جانے کا خدشہ ہے۔
مغربی افریقہ کے ساحل خطے میں واقع برکینا فاسو میں سلامتی کی صورتحال طویل عرصہ سے خراب ہے جہاں ملک کے ایک تہائی حصے پر ملکی فوج کی عملداری نہیں ہے جس نے 2022 میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ حالیہ عرصہ میں خطے کے متعدد ممالک میں غیرریاستی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عدم تحفظ اور نقل مکانی
'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، نیجر میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے 223,400 اور برکینا فاسو سے آنے والے 36,500 افراد ٹلابیری میں مقیم ہیں۔ حالیہ دنوں نیجر کے مزید 1,186 افراد نے بھی اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر کے اس جگہ پناہ لی ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ مئی کے آخری اور جون کے پہلے ہفتے میں مسلح غیرریاستی کرداروں نے برکینا فاسو کے علاقے مانسیلا، کنٹکاری اور سیمپیلگا کی آبادیوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے بعد 30 جون کو 3,068 پناہ گزینوں نے ٹلابیری کے علاقے ٹیرا کا رخ کیا۔ ان لوگوں کی آمد سے مقامی آبادی اور اس کے وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں
ادارے نے کہا ہے کہ نیجر اور برکینا فاسو کی سرحد پر حالات سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں ریاستی و غیرریاستی کرداروں کے مابین لڑائی کے نتیجے میں ناصرف لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے بلکہ انسانی امداد کی رسائی اور تحفظ کی فراہمی کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔
'یو این ایچ سی آر' مقامی حکام اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر 470 پناہ گزین گھرانوں کو تحفظ مہیا کرنے اور فوری ضروریات کی تکمیل کے لیے انہیں نقد امداد کی فراہمی کے اقدامات کر رہا ہے۔ 400 بے سہارا لوگوں اور گھرانوں کی 207 خواتین سربراہوں کو بھی فوری مدد مہیا کی جاری ہے۔ ان کے علاوہ دودھ پلانے والی اور حاملہ خواتین اور ذہنی مسائل کا شکار یا غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کو بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
'یو این ایچ سی آر' نے بتایا ہے کہ گھرانوں کو ہنگامی پناہ اور بیت الخلا کی سہولت دینے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے تاہم ان لوگوں کو خوراک، غذائیت اور خیمے مہیا کرنا ترجیح ہے۔