انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیشی حکام نوجوانوں کے مسائل بات چیت سے حل کریں، یو این

بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی جہاں سے ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔
Shaikh Ahmed/Unsplash
بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی جہاں سے ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

بنگلہ دیشی حکام نوجوانوں کے مسائل بات چیت سے حل کریں، یو این

انسانی حقوق

اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں احتجاج کرنے والے لوگوں سے بات چیت کے لیے سازگار ماحول یقینی بنائے اور مظاہرین کے خلاف تشدد سےگریز کرے۔

ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے معمول کی پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ بنگلہ دیش کے حکام نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں اور ان کی توانائی کو ملکی ترقی کے لیے کام میں لائیں۔

ادارہ بنگلہ دیش کی تازہ ترین صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور تمام فریقین سے کہتا ہے کہ وہ ہرممکن حد تک تحمل سے کام لیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے ہر معاملے میں نوجوانوں کی بامعنی اور تعمیری شمولیت ضروری ہے۔

ملازمتی کوٹے کے خلاف احتجاج

بنگلہ دیش میں کئی روز سے یونیورسٹیوں کے طلبہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔

اس سسٹم کے تحت ایک تہائی ملازمتیں 1971 میں پاکستان سے آزادی کے حصول کی جنگ لڑنے والے لوگوں کی اولادوں کو دی جاتی ہیں۔ 2018 میں بنگلہ دیش کی حکومت نے یہ نظام ختم کر دیا گیا تھا لیکن رواں مہینے کے آغاز میں اسے دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات میں اب تک کم از کم 32 اموات ہو چکی ہیں۔ جمعرات کو مشتعل مظاہرین نے ملک کے سرکاری ٹیلی ویژن کے دفتر کو آگ لگا دی تھی۔

پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں میں تقریباً ایک ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکام نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے جبکہ یونیورسٹیوں کو بھی نامعلوم مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

بنیادی حقوق کے احترام کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی بنگلہ دیش کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ طلبہ مظاہرین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان کے مسائل سنیں اور ان کا حل نکالیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور طاقت کے استعمال کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے۔ اظہار اور پرامن اجتماع کی آزادی بنیادی انسانی حقوق ہیں جن کا احترام کرنا لازمی ہے۔