افغانستان: یو این ادارے متاثرین سیلاب تک امداد پہنچانے میں مصروف
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کا رابطہ دفتر (اوچا) اپنے شراکت داروں کے تعاون سے افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والی آبادیوں کو مدد پہنچانے اور ان کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے ادارے کے ہیڈکوارٹر (نیویارک) میں معمول کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ادارے کی امدادی ٹیمیں ملکی حکام سے بھی رابطے میں ہیں اور لوگوں کو ہرممکن مدد پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں ملک کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں آنے والی بارشوں اور سیلاب میں 40 افراد ہلاک اور 250 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ 573 مکانات تباہ ہونے کی مصدقہ اطلاع ہے۔ امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ کم از کم 734 متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
پناہ گزینوں کے مرکز میں تباہی
اطلاعات کے مطابق مشرقی صوبہ ننگر ہار سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بچوں کے حقوق و تحفظ کے لیے کام کرنے والے غیرسرکاری ادارے سیو دی چلڈرن نے اطلاع دی ہے کہ سیلاب کے بعد تقریباً ڈیڑھ ہزار بچے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ پانی کے ریلے میں بہہ گئے یا نقل مکانی کے دوران اپنے والدین اور سرپرستوں سے بچھڑ گئے ہیں۔
شدید بارشوں کے نتیجے میں بعض دیہات مکمل طور پر سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر مویشیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
پاکستان کے ساتھ طورخم کے سرحدی راستے پر پناہ گزینوں کی وصولی کے مرکز کو بھی طوفانی بارشوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان چھوڑنے والے بیشتر افغان پناہ گزین اسی راستے سے گزر کر آتے ہیں۔ اس علاقے میں پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کی سہولیات کے علاوہ قریبی کیمپ میں 400 خیمے بھی تباہ ہو گئے ہیں یا انہیں نقصان ہوا ہے۔
امدادی وسائل کی ضرورت
ترجمان کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں نے متاثرہ علاقوں میں نو متحرک کلینک بھیجے ہیں اور غذائیت فراہم کرنے والی ٹیموں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ننگرہار کے علاقائی ہسپتال اور فاطمہ زہرا ہسپتال میں طبی سازوسامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں رواں سال ہی شدید بارشوں اور سیلاب سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
ادارے کے امدادی شراکت داروں نے واضح کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو مدد اور کھلی جگہوں یا عارضی خیموں میں رہنے والے خاندانوں کو تحفظ دینے کے لیے مزید وسائل کی فوری ضرورت ہے۔ رواں سال افغانستان میں امدادی مقاصد کے لیے تین ارب ڈالر کے وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی گئی ہے جن میں سے اب تک 72 کروڑ ڈالر ہی موصول ہوئے ہیں۔