سوڈان: الفاشر میں زیر محاصرہ آٹھ لاکھ افراد خوراک کی شدید کمی کا شکار
سوڈان میں بڑے پیمانے پر بھوک اور قحط پھیلنے کا خطرہ ہے جہاں جنگ زدہ ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر میں زیرمحاصرہ 800,000 افراد خوراک، پانی اور طبی مدد سے بڑی حد تک محروم ہو گئے ہیں۔
ملک میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر شبلی صاحبانی نے کہا ہے کہ سوڈان کی فوج اور اس کی حریف ملیشیا 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے مابین شدید لڑائی کے باعث شہر تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
ملک کے بیشتر حصوں میں متحارب فریقین 15 ماہ سے برسرپیکار ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں البتہ دونوں عسکری دھڑوں کے مابین بات چیت کا عمل جنیوا میں بدستور جاری ہے۔
بھوک اور طبی مسائل
شبلی صاحبانی نے بتایا ہے کہ متواتر لڑائی کے باعث ڈارفر خطے کی تمام ریاستیں، شمالی و جنوبی کردفان اور الجزیرہ کو انسانی امداد اور طبی خدمات کی فراہمی بند ہو گئی ہے۔ ڈارفر کے حالات خاص طور پر تشویشناک ہیں جہاں الفاشر جیسی جگہوں پر زخمیوں کو فوری طبی امداد میسر نہیں جبکہ بچے اور حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین شدید بھوک کے باعث جسمانی کمزوری کا شکار ہیں۔
انہوں نے متحارب فریقین سے شہریوں، امدادی ٹیموں، اور ہسپتالوں سمیت شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ میں بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں تک رسائی کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہاں طبی حالات میں مزید بگاڑ پر قابو پایا جا سکے۔
امدادی سرگرمیوں کی بحالی
ڈاکٹر شبلی نے بتایا ہے کہ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کا رابطہ دفتر (اوچا) امدادی سامان پہنچانے کے لیے متحارب فریقین سے بات چیت کر رہا ہے۔ فی الوقت مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود امدادی سامان کے ذخائر سے ہسپتالوں کو مدد مہیا کی جا رہی ہے جو تادیر برقرار نہیں رہ سکتی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'اوچا' کی بات چیت کے نتیجے میں امدادی سامان کی ترسیل جزوی طور پر بحال ہوئی ہے اور سرحد پار سے امداد کی فراہمی کے معاملے میں بھی اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔
تاہم، انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدامات بھی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ ملک میں بھوک، قحط اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ روکنے کے لیے ناصرف متحارب عسکری دھڑوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ان پر اثرورسوخ رکھنے والے بڑے ممالک کی مدد کا حصول بھی ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر شبلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہمسایہ ملک چاڈ میں ایک سوڈانی پناہ گزین نے انہیں بتایا کہ انہوں نے سلامتی اور بنیادی خدمات تک عدم رسائی سے کہیں زیادہ بھوک اور قحط کے ڈر سے نقل مکانی کی ہے۔
سوڈان کے علاقے ڈارفر سے نقل مکانی کر کے چاڈ پہنچنے والی ایک خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ مقامی طور پر جو خوراک پیدا کرتے تھے اسے جنگجو ان سے چھین لیتے تھے۔ وہ اپنے بچے کے ساتھ تین دن پیدل چل کر آئی تھیں اور اس پورے سفر میں انہیں کہیں کوئی خوراک نہیں ملی۔
جنیوا میں امن بات چیت
ڈاکتر شبلی نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال سوڈان کے لیے درکار امدادی وسائل میں سے اب تک 26 فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں جبکہ ملک کو دنیا کے بدترین ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔
گزشتہ ہفتے جنیوا میں سوڈان کے متحارب عسکری دھڑوں کے مابین شروع ہونے والی امن بات چیت میں انسانی امداد کی رسائی اور شہریوں کا تحفظ خاص طور پر موضوع بحث ہیں۔ یہ بات چیت سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رمتان لامامرا کے زیرقیادت ہو رہی ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کی ترجمان ایلیساندرا ویلوشی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فریقین میں بات چیت جاری ہے اور خصوصی نمائندے کی ٹیم نے دونوں دھڑوں سے کئی مرتبہ تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بات چیت کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں نہیں آتی تو کم از کم شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے اور امدادی راہداری کھولنے پر اتفاق رائے کی توقع ضرور موجود ہے۔