انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: اسرائیلی حملوں میں تیزی، یو این امداد فراہمی کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف

غزہ کے علاقے خان یونس میں المواصی کے مقام پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال لایا جا رہا ہے۔
WHO غزہ کے علاقے خان یونس میں المواصی کے مقام پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال لایا جا رہا ہے۔

غزہ: اسرائیلی حملوں میں تیزی، یو این امداد فراہمی کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف

امن اور سلامتی

جنوبی اور وسطی غزہ پر اسرائیل کے نئے حملوں میں کم از کم 90 افراد کی ہلاکت اور 300 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اور شراکت دار مشکل ترین حالات میں بھی متاثرین کو علاج معالجہ اور مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ جنوبی ساحلی علاقے المواصی میں ہونے والے حملے کے بعد طبی مراکز زخمیوں سے بھر گئے ہیں جن کی بڑی تعداد خان یونس کے نصر میڈیکل کمپلیکس میں لائی گئی ہے۔

Tweet URL

غزہ میں ادارے کے ڈائریکٹر سکاٹ اینڈرسن نے کہا ہے کہ حملے کے بعد اس ہسپتال کے مناظر ہولناک ہیں جہاں بستروں اور طبی سازوسامان کی شدید قلت ہے۔ بہت سے زخمیوں کو ہسپتال کے فرش پر ہی طبی امداد دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ان کے زخموں کو خراب ہونے سے بچانے کا خاطرخواہ انتظام نہیں ہے۔ بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے ہوا خارج کرنے کے پنکھے بند کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ہر جگہ خون کی بو پھیلی ہے۔

'انرا' کے سکول پر حملہ

سکاٹ اینڈرسن نے ہسپتال میں ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جو اپنے ایک سے زیادہ اعضا سے محروم ہو گئے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کے تحفظ کی امید پر رفح اور خان یونس سے نقل مکانی کر کے المواصی گئے تھے جسے اسرائیل نے محفوظ علاقہ قرار دے رکھا تھا لیکن انہیں وہاں بھی تحفظ نہیں ملا۔

سوموار کو رفح اور وسطی غزہ کے متعدد علاقوں میں نئے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں نصیرت کیمپ کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا جس میں ہزاروں افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس حملے میں کم از کم 17 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ گزشتہ ہفتے بھی 'انرا' کے دو سکولوں پر حملے کیے گئے تھے۔ اس طرح جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے مراکز پر حملوں کی مجموعی تعداد 190 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے المواصی میں حماس کے عسکری کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے ہیں۔

خیموں میں بدحالی

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے زیرقیادت ایک بین الاداری مشن نے بدھ کو وسطی غزہ کے علاقے دیرالبلح میں واقع البریج اور المغازی کے پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کیا تھا۔ البریج کیمپ میں 3,800 افراد 388 خیموں میں مقیم تھے جن کے پاس پینے کا صاف پانی اور صحت و صفائی کا سامان بھی نہیں تھا جبکہ المغازی میں سرطان کے سات مریضوں سمیت 1,000 افراد نے 'انرا' کے ایک تباہ شدہ سکول میں رہائش اختیار کر رکھی تھی جنہیں نہ تو طبی نگہداشت میسر تھی اور نہ ہی خوراک اور پانی دستیاب تھا۔

سکاٹ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ امدادی ادارے غزہ میں طبی سہولیات میں اضافے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں لیکن امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے باعث لوگوں کو ضرورت کے مطابق مدد کی فراہمی ممکن نہیں رہی۔

انہوں نے فوری جنگ بندی اور باقی ماندہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے کو دہرایا ہے جنہیں حماس کے زیرقیادت 7 اکتوبر کے دہشت گرد حملوں میں اغوا کیا گیا تھا۔

صاف پانی کی قلت

سکاٹ اینڈرسن نےکہا ہے کہ غزہ میں ضرورت کے مطابق امداد کی فراہمی میں کئی طرح کی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ان میں اسرائیلی فوجی چوکیوں پر امدادی ٹرکوں کی جانچ پڑتال کا طویل دورانیہ اور علاقے میں پھیلی لاقانونیت اور لوٹ مار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ تاہم پناہ گزینوں کو خیمے، بستر، سٹریچر اور ادویات کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

'انرا' نے بتایا ہے کہ غزہ میں تقریباً 19 لاکھ لوگوں کو پینے کے صاف پانی، خوراک اور صحت و صفائی کی سہولیات کی شدید قلت درپیش ہے۔ دیرالبلح کے ایک سکول میں 14 ہزار افراد کے لیے صرف 25 بیت الخلا دستیاب ہیں۔ غزہ میں ایندھن کی قلت کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں درپیش ہیں۔ علاوہ ازیں، یہ قلت پانی صاف کرنے کے پلانٹ، ہسپتال اور دیگر خدمات عامہ کو چالو رکھنے میں بھی رکاوٹ ہے۔

رواں مہینے روزانہ کی امدادی ضروریات کے لیے درکار ایندھن کا صرف 25 فیصد ہی غزہ میں آ رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو فراہم کیے جانے والے صاف پانی کی مقدار میں 40 فیصد کمی آ گئی ہے۔  عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ خوراک، پانی، صحت وصفائی کی سہولیات اور بنیادی طبی خدمات تک رسائی متاثر ہونے سے لوگوں میں بیماریاں پھیلنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہےکہ 8 اور 11 جولائی کے درمیان 152 فلسطینی ہلاک اور 392 زخمی ہوئے ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد علاقے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38,345 ہو گئی ہے اور اب تک 88,295 افراد زخمی ہوئے ہیں۔