پیرس پیرالمپکس میں حصہ لینے کے لیے پناہ گزینوں کی آٹھ رکنی ٹیم تیار
پیرس پیرا لمپکس گیمز میں صرف 50 دن باقی ہیں۔ انٹرنیشنل پیرا لمپک کمیٹی (آئی پی سی) نے اعلان کیا ہے کہ ان کھیلوں میں آٹھ کھلاڑیوں اور ان کے ساتھ دوڑنے والے ایک رہنما پر مشتمل پناہ گزینوں کی ٹیم بھی شریک ہو گی۔ یہ ان کھیلوں میں حصہ لینے والا پناہ گزین کھلاڑیوں کا اب تک سب سے بڑا دستہ ہے۔
دنیا بھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والے 12 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی نمائندگی کرنے والے ان کھلاڑیوں کا تعلق چھ مختلف ممالک سے ہے۔ یہ کھلاڑی پیرا پاور لفٹنگ، پیرا ٹیبل ٹینس، پیرا تائیکوانڈو، پیرا ٹرائیتھلون، اور وہیل چیئر فینسنگ کے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔
یہ ٹیم بین الاقوامی پیرالمپک کمیٹی کے پرچم تلے ان کھیلوں میں حصہ لے گی اور 28 اگست کو ان مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں مارچ کرنے والی پہلی ٹیم ہوگی۔ 2016 میں ہونے والے ریو پیرا لمپکس میں پناہ گزینوں کی ٹیم دو اور 2020 میں ٹوکیو پیرا لمپکس مقابلوں میں چھ کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔
آئی پی سی، کھیلوں کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے بعد کھلاڑیوں کی کارکردگی سمیت مختلف معیارات کو مدنظر رکھ کر ٹیم منتخب کرتی ہے۔ اس ضمن میں کھلاڑیوں کے ممالک اور 'یو این ایچ سی آر' سے ان کھلاڑیوں کی پناہ گزین حیثیت کی تصدیق بھی کی جاتی ہے۔
عزم اور صلاحیت کا اظہار
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ مسلسل تیسرے پیرا لمپکس کھیلوں میں پناہ گزینوں کی پرعزم اور متاثر کن ٹیم دنیا کو دکھائے گی کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ جب پناہ گزینوں کو اپنے ہنر اور صلاحیتوں کو استعمال کرنے، انہیں ترقی دینے اور دنیا پر ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ کھیل اور زندگی کے بہت سے دوسرے شعبوں میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یو این ایچ سی آر' بین الاقوامی پیرا لمپک کمیٹی کا مشکور ہے جو ادارے کی بڑھتی ہوئی شراکتوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے پناہ گزینوں کو کھیلوں کی جانب لایا ہے۔ کھیل ان کی ذہنی اور جسمانی تندرستی کے ساتھ ساتھ اپنے میزبان لوگوں کے ساتھ شمولیت اور انضمام کے معاملے میں بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
متاثر کن جدوجہد
'آئی پی سی' کے صدر اینڈریو پارسنز نے ان کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیرا لمپکس میں حصہ لینے والے ہر کھلاڑی کی داستان بے مثال صبر و استقامت کی عکاس ہے۔ مگر پناہ گزین کھلاڑیوں کی داستانیں اور جنگ اور ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ان کا سفر اور پیرا لمپک کھیلوں میں حصہ لینے کی جدوجہد نہایت متاثر کن ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں میں سے بیشتر انتہائی سنگین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کھلاڑیوں نے ثابت قدمی اور ناقابل یقین عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کھیلوں تک رسائی حاصل کی اور دنیا بھر کے پناہ گزینوں کو امید دلائی ہے۔ پناہ گزینوں کی پیرا لمپک ٹیم یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ کھیل انسان کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
1.2 ارب معذور افراد کی نمائندگی
نیاشا مہاراکوروا ان پیرا لمپکس کھیلوں میں پناہ گزینوں کے دستے کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2012 میں لندن پیرا لمپک کھیلوں میں وہیل چیئر ٹینس میں زمبابوے کی نمائندگی کی تھی۔ وہ ان کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے دو کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی پیرا لمپک ٹیم سبھی کے لیے مثال ہے۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ان کھلاڑیوں نے سب سے اعلیٰ سطح پر پیرا لمپک کھیلوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ آٹھ کھلاڑیوں اور ایک رہنما کی صورت میں یہ پناہ گزینوں کی تاریخ کی سب سے مضبوط اور بہترین پیرا لمپک ٹیم ہے۔ یہ کھلاڑی نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کی نمائندگی ہی نہیں کر رہے بلکہ دنیا کے 1.2 ارب معذور افراد کے نمائندے بھی ہیں۔