انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہیپا ٹائٹس سی کی تشخیص کے لیے گھریلو کِٹ کی ابتدائی منظوری

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اس وقت دنیا میں تقریباً پانچ کروڑ افراد شدید نوعیت کے ہیپا ٹائٹس سی میں مبتلا ہیں۔
© PAHO
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اس وقت دنیا میں تقریباً پانچ کروڑ افراد شدید نوعیت کے ہیپا ٹائٹس سی میں مبتلا ہیں۔

ہیپا ٹائٹس سی کی تشخیص کے لیے گھریلو کِٹ کی ابتدائی منظوری

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے لوگوں کو ہیپا ٹائٹس سی وائرس (ایچ سی وی) کا خود ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار کردہ پہلی کِٹ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے جس سے اس بیماری کے خاتمے کی کوششیں تیز کرنے میں مدد لے گی۔

'اورا کوئیک ایچ سی وی' نامی ٹیسٹ اس بیماری کی جانچ اور تشخیص تک رسائی کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ کِٹ 'اورا شوئر ٹیکنالوجیز' کمپنی نے تیار کی ہے اور یہ 'اورا کوئیک ایچ سی وی ریپڈ اینٹی باڈی ٹیسٹ' کا تسلسل ہے جس کی 'ڈبلیو ایچ او' نے 2017 میں پیشہ وارانہ استعمال کے لیے منظوری دی تھی۔

 

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' کی منظوری سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے کہ بین الاقوامی خریداری اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ادویات معیار، تحفظ اور تاثیر کے حوالے سے قابل قبول معیارات پر پورا اترتی ہیں۔

روزانہ 3,500 اموات

'ڈبلیو ایچ او' میں عالمگیر ایچ آئی وی، ہیپا ٹائٹس اور ایس ٹی آئی پروگراموں کے شعبے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میگ ڈورتھی نے کہا ہے کہ اس منظوری سے ایچ سی وی کی جانچ اور علاج کی خدمات کو موثر طور سے وسعت دینا ممکن ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں اس اقدام کی بدولت مزید بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے بیماری کی تشخیص اور علاج یقینی بنانے اور بالآخر ایچ سی وی کے خاتمے کے عالمگیر ہدف کو حاصل کرنے کا محفوظ و موثر راستہ میسر آیا ہے۔

ڈاکٹر ڈورتھی کا کہنا ہے کہ وائرس سے پھیلنے والے ہیپاٹائٹس سے روزانہ 3,500 اموات ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ہیپا ٹائٹس سی میں مبتلا پانچ کروڑ لوگوں میں سے 36 فیصد میں ہی اس بیماری کی تشخیص ہو پاتی ہے۔ 2022 کے اختتام تک ان میں سے صرف 20 فیصد لوگوں کو علاج معالجہ میسر آیا تھا۔

خون سے پھیلنے والا وائرس

ہیپا ٹائٹس سی جگر کو متاثر کرتا ہے اور شدید و طویل بیماری کا سبب بن سکتا ہے جس سے جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔یہ بیماری متاثرہ خون کے ذریعے پھیلتی ہے اور استعمال شدہ سوئیاں یا سرنجیں اس کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جانچ کے بغیر خون کی منتقلی اور ایسے جنسی افعال بھی اس بیماری کی ایک سے دوسرے فرد کو منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں جن میں خون بہنے کا خدشہ ہو۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، اس وقت دنیا میں تقریباً پانچ کروڑ افراد شدید نوعیت کے ہیپا ٹائٹس سی میں مبتلا ہیں اور ہر سال اس بیماری کے تقریباً 10 لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ 2022 میں اس بیماری سے تقریباً 242,000 لوگوں کی اموات ہوئی تھیں جن میں بیشتر تعداد جگر کے بنیادی کینسر میں مبتلا تھی۔

جانچ اور علاج میں وسعت

'ڈبلیو ایچ او' نے 2021 میں اس ٹیسٹ کی سفارش کی تھی تاکہ بیماری کی جانچ سے متعلق موجودہ خدمات کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایسی واضح شہادتوں کی بنیاد پر لیا گیا کہ اس سے بیماری کی جانچ اور تشخیص سے متعلق خدمات تک رسائی اور ان کے حصول میں بہتری آتی ہے۔ خاص طور پر اس سے ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو بصورت دیگر وائرس کا ٹیسٹ نہیں کرواتے۔

'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ ضوابط و منظوری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر روجیریو گیسپر نے کہا ہے کہ ایچ سی وی ٹیسٹ کی دستیابی سے کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک کو محفوظ اور سستے انفرادی ٹیسٹ کی سہولت میسر آئے گی جو کہ اس بیماری میں مبتلا 90 فیصد لوگوں کی نشاندہی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایچ سی وی کے مزید انفرادی ٹیسٹ تیار کرنے کے کام کا جائزہ لیتا رہے گا اور تمام ممالک میں اس بیماری پر قابو پانے کے لیے دستیاب امکانات کو وسعت دینے کے لیے مقامی سطح پر لوگون کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔