انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی فخریہ میزبانی جاری رکھنے کی اپیل

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNHCR/Caroline Gluck
افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی فخریہ میزبانی جاری رکھنے کی اپیل

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے پاکستان میں رہنے والے افغانوں کے مستقبل سے متعلق طویل مدتی اقدامات اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے کوششوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

پاکستان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر انہوں نے کہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو محض امداد دینے کے بجائے ان کے مسئلے کا طویل مدتی حل نکالنے اور اس حوالے سے ذمہ داریاں بانٹنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں نئی شراکتیں اور اختراعی طریقہ ہائے کار بھی درکار ہوں گے تاکہ ان کی طویل بے گھری کا خاتمہ ہو سکے۔

 

Tweet URL

اس دورے میں ہائی کمشنر نے صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع پشاور اور ہری پور کا دورہ کیا اور اس دوران شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والے افغان پناہ گزینوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے انہیں اپنی صورتحال کے حوالے سے درپیش خدشات سے آگاہ کیا اور اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

پناہ گزینوں کی 'واپسی' معطل رکھنے کی درخواست

فلیپو گرینڈی اپنے دورے میں دارالحکومت اسلام آباد بھی گئے جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور امیر مقام اور وزارت داخلہ و خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں انہوں نے افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے ثبوت پر مبنی کارڈ (پی او آر) کی مدت میں بروقت توسیع کے لیے کہا جو اس وقت ملک میں 13 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے لیے اہم ترین شناختی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ملک میں 'غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپس بھیجنے کے منصوبے' کی معطلی کے فیصلے کی ستائش کی اور یہ یقین دہانی چاہی کہ اسے معطل ہی رکھا جائے گا۔

فلیپو گرینڈی کا کہنا تھا کہ انہیں 45 سال سے افغان شہریوں کو پناہ دینے کے باعث ملک کو لاحق مسائل کا اداراک ہے اور وہ ان پناہ گزینوں کی فیاضانہ میزبانی پر پاکستان کی حکومت کو سراہتے ہیں۔انہوں نے حکام سے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی تحفظ کے خواہاں افغان شہریوں کی میزبانی کی فخریہ روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔

مسئلے کے حل میں مدد کی پیشکش

فلیپو گرینڈی نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے سازگار حالات تخلیق کرنے کی کوششوں میں اضافے کا عزم بھی کیا۔ اس ضمن میں انہیں خدمات، روزگار اور حقوق تک رسائی مہیا کرنا خاص طور پر اہم ہے جس سے مستقبل میں ان کی پائیدار طور سے رضاکارانہ واپسی کی راہ ہموار ہو گی۔

انہوں  نے رواں سال کے آخر میں ایسی بات چیت کے لیے کام کرنے کی پیشکش بھی کی جس کے ذریعے افغان پناہ گزینوں اور پاکستان دونوں کو فوائد حاصل ہو سکیں۔ اس بات چیت میں حکومتی نمائندے، ترقیاتی شراکت دار اور نجی شعبے سمیت اس مسئلے کے اہم فریقین شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن کی اپنے ملک میں رضاکارانہ واپسی کے علاوہ انہیں مستقبل میں کسی تیسرے ملک میں بسانے اور پاکستان کے اندر ان کے مسئلے کو طویل مدتی طور پر حل کرنے جیسے مزید طریقے تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔