انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لیبیا میں پناہ گزین ظالمانہ طرزعمل کا شکار، انسانی حقوق کمشنر

لیبیا کے ساحل سے دور بحیرہ روم میں پناہ کے متلاشی افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا (فائل فوٹو)۔
© SOS Méditerranée/Anthony Jean
لیبیا کے ساحل سے دور بحیرہ روم میں پناہ کے متلاشی افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا (فائل فوٹو)۔

لیبیا میں پناہ گزین ظالمانہ طرزعمل کا شکار، انسانی حقوق کمشنر

مہاجرین اور پناہ گزین

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ لیبیا کے ساتھ پناہ گزینوں اور مہاجرت سے متعلق اپنے معاہدوں پر عملدرآمد روک دیں۔

ہائی کمشنر نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں کہی ہے جہاں لیبیا میں بڑے پیمانے پر تشدد، سمگلنگ اور خریدوفروخت کا نشانہ بننے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی صورتحال موضوع بحث آئی۔

Tweet URL

ہائی کمشنر نے کہا کہ لیبیا میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو انسانی سمگلنگ، تشدد، جبری مشقت، اغوا برائے تاوان اور ناقابل برداشت قید میں بھوکا رکھے جانے جیسے جرائم کا سامنا ہے۔ ان جرائم میں ملوث بیشتر عناصر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی۔ یہی نہیں بلکہ بچوں سمیت لوگوں کی خریدوفروخت بھی عام ہے اور اس معاملے میں ریاستی و غیرریاستی کرداروں کے مابین گٹھ جوڑ کے نتیجے میں متاثرین کو غیرانسانی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے لیبیا کے حکام سےکہا ہے کہ وہ ایسے ہزاروں مہاجرین اور پناہ گزینوں کے خلاف جرائم کی تحقیقات کریں۔

ہائی کمشنر نے مارچ میں لیبیا کے جنوب مغربی علاقے میں اجتماعی قبر سے 65 لاشوں کی دریافت کا تذکرہ بھی کیا جو ممکنہ طور پر مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تھیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں لیبیا اور تیونس کی سرحد پر ایک اور اجتماعی قبر کی دریافت کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ مرنے والوں کے عزیزوں کو اس معاملے میں سچائی جاننے کا پورا حق ہے۔

غیرانسانی سلوک

ہائی کمشنر نے یورپی یونین اور لیبیا کے حکام کے مابین بحیرہ روم کے راستے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو روکنے سے متعلق انتظام پر نظرثانی کے لیے بھی کہا۔

سمندر میں کشتیوں کے حادثات میں متاثرہ تارکین وطن کو ڈھونڈنے اور ان کی جان بچانے والے انسانی حقوق کے غیرجانبدار ماہرین اور خیراتی ادارے اس انتظام پر تواتر سے تنقید کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحلی محافظوں کا ان لوگوں سے سلوک لاپرواہانہ ہے جو تارکین وطن کی کشتیوں کے قریب یا ان پر براہ راست فائرنگ کرتے ہیں اور ان کشتیوں میں سوراخ کر دیتے ہیں جو لوگوں کو واپس لیبیا کے ساحل پر پہنچانے سے پہلے ہی ڈوب جاتی ہیں۔

وولکر ترک نے کونسل کو بتایا کہ اپریل 2023 کے بعد 12 ماہ میں 2,400 افراد افریقہ سے بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً 1,300 لوگ لیبیا سے اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

صحرا میں موت

ہائی کمشنر نے صحرائے صحارا کے ذریعے لیبیا کا سفر اختیار کرنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی اموات روکنے کے اقدامات پر بھی زور دیا۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق صحرا میں ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تعداد سمندر میں ڈوبنے والوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اموات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ساہل خطے اور سوڈان میں جاری مسلح تنازعات اور شاخِ افریقہ میں موسمیاتی شدت اور طویل ہنگامی حالات کے باعث بہت بڑی تعداد میں لوگ سنگین خطرات مول لے کر مہاجرت اختیار کر رہے ہیں۔

سلامتی کی خراب صورتحال کے باعث اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والوں کو لیبیا کے جنوبی اور مشرقی حصوں تک مکمل رسائی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، ادارے کے تحقیقات کاروں کو ملک بھر میں قید خانوں کے دورے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

ماورائے عدالت ہلاکتیں

وولکر ترک نے لیبیا میں لوگوں کی ناجائز گرفتاریوں اور قید، جبری گمشدگیوں اور حقوق کی دیگر پامالیوں میں اضافے کا تذکرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی مخالفین اور حکومت مخالف آوازوں کو دبایا جا رہا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

اقوام متحدہ کو پرامن طور سے اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کرنے والے 60 افراد کی ناجائز گرفتاری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور بعض واقعات میں گرفتار لوگوں کو ہلاک بھی کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2011 میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر احتساب کا فقدان ملک میں مفاہمت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔علاوہ ازیں، گزشتہ برس ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کے بعد ملکی آبادی کو اب بھی شدید معاشی مشکلات درپیش ہیں۔

ہائی کمشنر نے حقوق پر مبنی اور لوگوں پر مرتکز انصاف، مفاہمتی عمل، پائیدار سیاسی تصفیے، امن عامہ کی بحالی، حقوق کی پامالیوں پر محاسبے اور متحدہ و قانونی جواز کے حامل اداروں کو لیبیا کے مسائل کا حل قرار دیا۔