انسانی کہانیاں عالمی تناظر

محمد یحییٰ کا پناہ گزین سے پاکستان میں یو این نمائندہ بننے کا سفر

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر تعینات ہونے سے پہلے محمد یحییٰ (بائیں سے دوسرے نمبر پر) نائجیریا میں یو این ڈی پی کے نمائندہ تھے۔
©UNDP
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر تعینات ہونے سے پہلے محمد یحییٰ (بائیں سے دوسرے نمبر پر) نائجیریا میں یو این ڈی پی کے نمائندہ تھے۔

محمد یحییٰ کا پناہ گزین سے پاکستان میں یو این نمائندہ بننے کا سفر

مہاجرین اور پناہ گزین

پاکستان میں اقوام متحدہ کے حال ہی میں تعینات کیے گئے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ دہری مہاجرت کے تجربے سے گزرے ہیں اور 'بے گھری' کے اسی احساس کو لے کر انہوں نے پناہ گزینوں کی مستحکم نوآبادکاری اور مقامی لوگوں کے زیر قیادت تعمیر و ترقی کے موثر طریق کار کو فروغ دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ امید، تعاون، امن اور ترقی کا ذریعہ ہے اور اس کے لیے کام کرتے ہوئے وہ دنیا کو جنگوں، بےقاعدہ مہاجرت کے مسائل اور موسمیاتی ابتری سے پاک دیکھنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے یہ باتیں اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے عالمی اطلاعات میلیسا فلیمنگ کو ان کی پوڈ کاسٹ 'رت جگا' کے رواں سیزن کی دوسری قسط میں انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔ یہ انٹرویو 'گھر جیسی جگہ کوئی نہیں' کے عنوان سے نشر ہو چکا ہے۔

اس دوران انہوں نے اوائل بچپن میں اپنے وطن صومالیہ سے نقل مکانی، حصول تعلیم کے لیے برطانیہ کو ہجرت، اقوام متحدہ کے ساتھ پناہ گزینوں کے لیے کام کے تجربے اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

وضاحت اور اختصار کے مقصد سے اس بات چیت کو مدون کیا ہے۔

بے گھروں کی آباد کاری

محمد یحییٰ نے بتایا کہ نائجیریا میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے نمائندے کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہوں نے اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگوں کو ان کے اپنے علاقوں میں نوآبادکاری میں مدد دی۔ یہ لوگ 2000ء کے اوائل میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

ابتداً انہیں پناہ گزین کیمپوں میں رکھا گیا تھا لیکن وہاں رہن سہن اور صحت و صفائی کے حالات اچھے نہیں تھے۔ چنانچہ 'یو این ڈی پی' نے حکومت اور امدادی اداروں کے تعاون سے ایسے ہزاروں پناہ گزینوں کو ان کے آبائی علاقوں میں نئے گھر بنا کر دیے جو بہتر رہائش کا نمونہ ہونے کے علاوہ خاص طور پر خواتین کے لیے محفوظ ہیں۔

محمد یحییٰ اس منصوبے کو اپنے کیریئر کا ایسا کام قرار دیتے ہیں جس پر انہیں بے حد فخر ہے۔ مہاجرت کے تکلیف دہ تجربے سے ذاتی طور پر آشنا ہونے کے باعث انہیں 'گھر' کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات پناہ گزینوں کو سالہا سال تک کیمپوں میں سنبھالنے پر آنے والی لاگت سے کہیں کم ہوتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے حکومتی ترجیح اور لوگوں کی ضروریات کو یکجا کر کے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔

محمد یحییٰ نے نائجیریا میں 'یو این ڈی پی' کی قیادت کرتے ہوئے 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لیے نو مقامات پر ایسے منصوبے مکمل کیے۔ علاوہ ازیں، واپس آنے والے پناہ گزینوں کے لیے سکول اور طبی مراکز بھی قائم کیے گئے اور امن و امان کی بحالی عمل میں لائی گئی۔

نائجیریا میں اندرونی طور پر نقل مکانی اور بے گھری پر مجبور خاندانوں کی جب اپنے گھروں کو واپسی ہوئی تو اس وقت یو این ڈی پی کے کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ ان سے ملنے گئے تھے۔
©UNDP
نائجیریا میں اندرونی طور پر نقل مکانی اور بے گھری پر مجبور خاندانوں کی جب اپنے گھروں کو واپسی ہوئی تو اس وقت یو این ڈی پی کے کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ ان سے ملنے گئے تھے۔

نئی منزل، نئی ترجیحات

محمد یحییٰ نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے پر خوشی ہے۔ اگرچہ یہ کام ان کی سابقہ ذمہ داریوں سے مختلف ہے تاہم اس سے انہیں تعمیرو ترقی کے عمل کو وسیع تناظر میں دیکھنے کا موقع ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے وہ خاص طور پر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے پر توجہ دیں گے۔ اس کے ساتھ حکومت کے تعاون سے سیلاب جیسے موسمیاتی حوادث کے اسباب پر قابو پانے اور ان سے ہونے والے نقصان کو محدود رکھنے کا کام بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پاکستان میں وسیع نمائندگی ہے۔ وہ اس کے مختلف اداروں کے کام کو مربوط کر کے بہتر سے بہتر نتائج کے حصول کی کوشش کریں گے۔

ترک وطن اور شناخت

محمد یحییٰ افریقی ملک صومالیہ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے دونوں والدین سرکاری ملازمت کرتے تھے۔ 1978 میں صومالیہ اور ایتھوپیا کی جنگ کے بعد ملکی حالات خراب ہوئے تو ان کے والدین ہمسایہ ملک کینیا میں ہجرت کر گئے جہاں ان کی والدہ اب بھی مقیم ہیں۔

جب وہ کینیا آئے تو ان کی عمر تین یا چار سال تھی تاہم انہوں نے کبھی کینیا کی شہریت اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی اور فخریہ طور پر خود کو صومالی سمجھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی خواہش ہےکہ وہ اپنے وطن صومالیہ جائیں اور اپنے خاندان کے ساتھ وہاں رہائش اختیار کریں لیکن فی الوقت ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

کینیا میں قیام کے دوران والدہ نے انہیں حصول تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تاہم انہیں 'بے قاعدہ تارک وطن' کے طور پر وہاں جانا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اچھی زندگی کے لیے مہاجرت کے بے قاعدہ راستے اختیار کرنے والوں کو درپیش مسائل، ان کے حل کی ضرورت اور اس مقصد کے لیے درکار موزوں طریقہ ہائے کار کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہے۔

محمد یحییٰ کہتے ہیں کہ ترک وطن پر مجبور ہونے والوں اور پناہ گزینوں کے لیے مہاجرت کے قانونی راستے بنانے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازوں کو مہاجرت مخالف احساسات ترک کرنا ہوں گے۔ چونکہ مہاجرت کے قانونی طریقے وجود نہیں رکھتے اس لیے بالخصوص دولت مند ممالک میں مہاجرین سے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا مشاہدہ انتخابات میں دائیں بازو کی مہاجر مخالف سخت گیر سیاسی جماعتوں کو ملنے والی پذیرائی کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔

محمد یحییٰ ( دائیں سے تیسرے نمبر پر) نائجیریا میں یو این ڈی پی کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شہر کی تعمیرنو کا جائزہ لے رہے ہیں جو بوکو حرام نے دس سال قبل تباہ کر دیا تھا۔
©UNDP
محمد یحییٰ ( دائیں سے تیسرے نمبر پر) نائجیریا میں یو این ڈی پی کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شہر کی تعمیرنو کا جائزہ لے رہے ہیں جو بوکو حرام نے دس سال قبل تباہ کر دیا تھا۔

بہتر دنیا کی امید

محمد یحییٰ نے برطانیہ میں رہتے ہوئے سکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں ایک غیرسرکاری ادارے میں نوکری مل گئی جس نے انہیں فلاحی ترقیاتی کام کے لیے مغربی افریقہ بھیجا۔ وہاں انہیں لائبیریا میں 'یو این ڈی پی' کے اشتراک سے اور بعدازاں اس کے ساتھ کام کا موقع ملا۔ وہیں ان کی ملاقات اپنی ہونے والی اہلیہ سے ہوئی جن کا تعلق سویڈن سے تھا اور وہ بھی یو این ڈی پی کے لیے کام کر رہی تھیں۔

محمد یحییٰ اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب اور خوشگوار قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے موقع پر اہلیہ نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ ہر سال کرسمس کی چھٹیاں ان کے ساتھ سویڈن میں گزاریں گے۔

تاہم، وہ کہتے ہیں کہ سویڈن کی سردی ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوئی اور آج بھی جب وہ کرسمس کے موقع پر وہاں ہوتے ہیں تو ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔

شادی کے بعد ان کے ہاں ایک بچی نے جنم لیا جس کی عمر اب سات برس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بچی سمیت تمام بچوں کے لیے جنگوں اور موسمیاتی ابتری سے محفوظ دنیا کی امید رکھتے ہیں۔ ایسی دنیا جو عدم رواداری سے پاک ہو اور جہاں سبھی کو یکساں مواقع میسر آئیں۔