انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ریکارڈ پر گرم ترین جون اور بڑھتے درجہ حرارت کا مسلسل تیرواں مہینہ

گزشتہ مہینے یورپی خطے کے جنوب مشرقی علاقوں اور ترکیہ میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
© Unsplash/Andrew Seaman
گزشتہ مہینے یورپی خطے کے جنوب مشرقی علاقوں اور ترکیہ میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔

ریکارڈ پر گرم ترین جون اور بڑھتے درجہ حرارت کا مسلسل تیرواں مہینہ

موسم اور ماحول

گزشتہ مہینہ معلوم تاریخ کا گرم ترین جون اور متواتر 13واں مہینہ تھا جب زمینی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ کرہ ارض کی حدت یونہی بڑھتی رہی تو دنیا کو موسمی شدت کے بدترین واقعات کا سامنا ہو گا۔

یورپی موسمیاتی ادارے 'کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس' نے بتایا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے زیادہ اضافہ اب تواتر سے ہونے لگا ہے۔ اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمین مستقل طور پر اتنی گرم ہو گئی ہے تاہم یہ صورتحال کم از کم دو دہائیوں تک شدید گرمی کا باعث بن سکتی ہے۔

Tweet URL

عالمی حدت میں اضافہ روکنے کے لیے 2015 کے پیرس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور (1850) کی حدت کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔

طویل مدتی منظرنامہ

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر زمین کے درجہ حرارت میں اضافے نے 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد عبور کی تو دنیا موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ درجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ بھی خطرناک ہے۔

مثال کے طور پر عالمی حدت میں ہر 0.1 ڈگری کے اضافے سے شدید گرمی کی لہروں اور بارشوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے کئی علاقوں میں زرعی اور ماحولیاتی خشک سالی جنم لیتی ہے۔

'آئی ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کی موجودہ رفتار ہی برقرار رہی تو تب بھی دنیا کو تباہ کن موسمیاتی اثرات درپیش ہوں گے۔ ایسے میں گلیشیئر پگھلتے جائیں گے اور سطح سمندر میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جو پہلے ہی تباہ کن حدود کو چھو رہا ہے۔

موسمی شدت کے اثرات

'ڈبلیو ایم او' کی 2023 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، شدید گرمی کے باعث شرح اموات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ 2000 اور 2019 کے درمیانی عرصہ میں گرمی نے ہر سال اوسطاً 489,000 جانیں لیں۔

عالمی حدت میں اضافے کے نتیجے میں قطب جنوبی و شمالی کی برف بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔ جون میں قطب شمالی میں برف معمول کی اوسط سے تین فیصد جبکہ قطب جنوبی کی برف 12 فیصد کم رہی۔

گزشتہ مہینہ سطح سمندر کے لیے بھی گرم ترین جون تھا۔ سیلیسٹ ساؤلو کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سمندری ماحولیاتی نظام کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے کیونکہ سطح سمندر کی حدت میں اضافے سے منطقہ حارہ کے سمندری طوفانوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکی ساحلوں کے قریب آنے والا 'بیریل' طوفان اس کی واضح مثال ہے۔

گرمی کی عالمگیر صورتحال

گزشتہ مہینے یورپی خطے کے جنوب مشرقی علاقوں اور ترکیہ میں درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اسی طرح، یورپ سے باہر درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ مشرقی کینیڈا، مغربی امریکہ اور میکسیکو، برازیل، شمالی سائبیریا، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مغربی انٹارکٹکا میں دیکھا گیا۔

اگرچہ سمندری موسمیاتی کیفیت 'لا نینا' کے سبب مشرقی استوائی بحر الکاہل میں درجہ حرارت معمول کی اوسط سے کم رہا، تاہم کئی خطوں میں سطح سمندر کے اوپر فضائی درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔

کوپرنیکس سروس کے ڈائریکٹر کارلو بونٹیمپو نے کہا ہے کہ اگر عالمی حدت میں اضافے کے یہ مخصوص واقعات کسی وقت تھم بھی جائیں تو تب بھی موسمی شدت کے نئے ریکارڈ ٹوٹیں گے کیونکہ کرہ ارض کی حدت متواتر بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فضا اور سمندروں میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روکے بغیر دنیا کو بڑھتی حدت کے تباہ کن اثرات سے تحفظ دینا ممکن نہیں۔