انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انڈیا، چین اور امریکہ کو عالمی تجارت میں اضافے سے فائدہ

اعلی کارکردگی کے حامل کمپیوٹر سرور کی تجارت میں گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
© UNSPLASH/Alex Kotliarskyi
اعلی کارکردگی کے حامل کمپیوٹر سرور کی تجارت میں گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

انڈیا، چین اور امریکہ کو عالمی تجارت میں اضافے سے فائدہ

معاشی ترقی

رواں سال 2024 کی پہلی سہ ماہی کے دوران عالمی تجارت میں مثبت رجحانات دیکھنے کو ملے جب اشیا کی تجارتی قدر میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 1 فیصد اور خدمات میں تقریباً 1.5 فیصد تک اضافہ ہوا۔

رواں سال عالمگیر جی ڈی پی میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہونے کی توقع ہے جبکہ تجارت کے حوالے سے مختصر مدتی منظرنامے میں بہتری کی امید ہے۔ اگر یہی مثبت رجحانات برقرار رہے تو 2024 میں عالمگیر تجارت تقریباً 32 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اس کے 2022 کی ریکارڈ سطح کو عبور کرنے کا امکان نہیں ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے 2024 کی تجارتی صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال اشیا کی تجارت کے مالی حجم میں گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں تقریباً 250 ارب ڈالر اضافہ ہو گا۔ اسی طرح خدمات کی تجارت میں 100 ارب ڈالر اضافے کی توقع ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ بہتری بڑی حد تک امریکہ اور ترقی پذیر ایشیائی ممالک بالخصوص بڑی ترقی پذیر معیشتوں کے مثبت تجارتی حالات کی مرہون منت ہے۔

چین، امریکہ اور انڈیا محرک

2024 کی پہلی سہ ماہی میں چین (9 فیصد) ، انڈیا (7 فیصد) اور امریکہ (3 فیصد) کی برآمدات میں اضافہ عالمی تجارتی نمو کی بنیادی وجہ تھی۔ اس سے برعکس، یورپ کی برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور افریقہ کی برآمدات میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی۔

رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ترقی پذیر ممالک میں اور جنوبی دنیا کے مابین تجارت میں درآمدات اور برآمدات دونوں حوالے سے تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک کی درآمدات کا حجم برقرار رہا جبکہ برآمدات میں ایک فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔

تاہم، دونوں برس کی پہلی سہ ماہی کا موازنہ کیا جائے تو رواں سال جنوبی دنیا کے ممالک کے مابین تجارت میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی۔

ٹیکنالوجی کی تجارت میں اضافہ

رواں سال کے ابتدائی تین مہینوں میں تجارتی ترقی کی شرح مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر مختلف رہی جبکہ ماحول دوست توانائی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی خریدوفروخت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔

اعلی کارکردگی کے حامل کمپیوٹر سرور کی تجارت میں گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ دیگر کمپیوٹروں اور ڈیٹا جمع کرنے والے یونٹ کی خریدوفروخت 8 فیصد تک بڑھ گئی۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تجارتی قدر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ رہی۔