انڈیا سے روہنگیا پناہ گزینوں کے انسانی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ
نسلی امتیاز کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای آر ڈی) نے انڈیا سےکہا ہے کہ وہ میانمار سے نقل مکانی کرکے آنے والے روہنگیا لوگوں کو ناجائز قید سے رہائی دے اور انہیں ملک بدر کرنے یا ان کی مرضی ک خلاف میانمار واپس بھیجنے سے گریز کرے۔
کمیٹی نے پیشگی انتباہ اور ہنگامی اقدامات کے اپنے طریقہ کار کے تحت جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ انڈیا میں روہنگیا لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر نسل پرستانہ بیانات تشویشناک ہیں۔ یہ بیانات دینے والوں میں سیاست دان اور عوامی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اگر روہنگیا پناہ گزینوں کو میانمار واپس بھیجا گیا تو وہاں انہیں اپنے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایسے بیانات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو مناسب سزا دے۔
ملک بدری پر اظہار تشویش
کمیٹی کا کہنا ہےکہ اسے بچوں سمیت روہنگیا پناہ گزینوں کی گرفتاری اور انہیں ناموزوں حالات میں رکھے جانے پر گہری تشویش ہے جبکہ ان لوگوں کو اپنے قانونی دفاع کی سہولت بھی نہیں دی جا رہی۔ 2018 سے 2022 کے درمیانی عرصہ میں بہت سے روہنگیا لوگوں کو جبراً ملک بدر کیے جانے کی اطلاعات بھی پریشان کن ہیں اور ایسے اقدامات پناہ گزینوں کو ان کی مرضی کے خلاف واپس بھیجنے کے اصول کی خلاف ورزی ہیں۔
کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ روہنگیا لوگوں کی اجتماعی قید کا خاتمہ کرے اور انتہائی ناگزیر حالات کے علاوہ اس طریقے سے کام نہ لے۔ اگر کسی کو حراست میں لینا پڑے تو اس کا دورانیہ ہرممکن حد تک مختصر ہونا چاہیے اور دوران قید انہیں قانونی تحفط اور وکلا تک رسائی ہونی چاہیے۔
روہنگیا کے حقوق برقرار رکھنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو کسی امتیاز کے بغیر اپنے حقوق سے کام لینے کا موقع دے۔ اس میں خاص طور پر انہیں ملازمتوں، صحت و تعلیم کی خدمات، طویل مدتی ویزوں اور دیگر شناختی دستاویزات کی فراہمی جیسے حقوق شامل ہیں۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ انڈیا میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی اطلاع کار کے ساتھ تعاون جاری رکھے اور انہیں اپنے ہاں دورے کی سہولت فراہم کرے۔
'سی ای آر ڈی' کے پیشگی انتباہ اور ہنگامی اقدامات کے طریقہ کار کا بنیادی مقصد ایسے حالات کا جائزہ لینا ہے جو تنازعات کا باعث بن سکتے ہوں۔ یہ طریقہ کار ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے پر بین الاقوامی کنونشن کے تحت انسانی حقوق کی وسیع تر خلاف ورزیوں کو روکنے کے موزوں اقدامات اٹھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔