انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: فوجی حکمرانی میں صنفی امیتاز اور استحصال میں اضافہ

رنگون کی ایک کچی بستی میں ایک خاتون چھ ماہ کے اپنے بچے کی ساتھ۔
© UNICEF/Nyan Zay Htet
رنگون کی ایک کچی بستی میں ایک خاتون چھ ماہ کے اپنے بچے کی ساتھ۔

میانمار: فوجی حکمرانی میں صنفی امیتاز اور استحصال میں اضافہ

انسانی حقوق

میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار ٹام اینڈریوز نے کہا ہے کہ ملک میں فوجی بغاوت صنفی مساوات کے لیے تباہ کن دھچکا تھی جس کے بعد خواتین، لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کے خلاف امتیازی سلوک، تشدد اور استحصال بڑھ گیا ہے۔

ٹام اینڈریوز نے میانمار میں صنفی مساوات کی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک کے فوجی حکمرانوں نے برسراقتدار آنے کے بعد انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

 

Tweet URL

'بحران میں جرات: میانمار میں بغاوت کے صنفی اثرات اور صنفی مساوات کی جستجو' کے عنوان سے اس رپورٹ میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ میانمار میں سول سوسائٹی کے اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے خواتین، لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کی مدد کے لیے آگے آئے۔ اس ضمن میں انتہائی کمزور طبقات کو ان کی ضرورت کے مطابق انسانی امداد فراہم کی جائے اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کی مدد کے پروگراموں کو مالی وسائل مہیا کیے جائیں۔

قید و بند اور تشدد کا خطرہ

ٹام اینڈریوز کا کہنا ہے کہ میانمار میں جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد کا خطرہ ایک ایسا تاریک سایہ ہے جو خواتین، لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کا پیچھا کر رہا ہے۔ سرکاری فوج جنگ زدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کا ارتکاب کر رہی ہے اور خاص طور پر فوجی چوکیوں اور حراستی مراکز میں لوگوں کو ان مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

فوجی حکمرانوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو ختم کرنے کی منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔ حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ہر وقت قید و بند کا خطرہ رہتا ہے اور بعض لوگوں نے اسی ڈر سے جلاوطنی اختیار کر لی ہے۔ یہی نہیں بلکہ خواتین اور ایل جی بی ٹی افراد کی تنطیموں کے رہنماؤں کو ہراساں کرنے کی آن لائن مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں خواتین، لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کو لاحق معاشی، سماجی اور ثقافتی خطرات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ ان میں معاشی خودمختاری چھن جانے، تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی محدود ہو جانے اور طویل مدتی بے گھری جیسے خطرات بھی شامل ہیں۔

سول سوسائٹی کا جراتمندانہ کردار

خصوصی اطلاع کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنگین خطرات اور متواتر تفریق کے باوجود خواتین اور ایل جی بی ٹی افراد کے رہنماوں نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ وہ انقلابی انتظامی ڈھانچے میں کردار ادا کر رہے ہیں، بامعنی سیاسی شمولیت کے لیے انتھک انداز میں کوشاں ہیں اور جنسی و صنفی بنیاد پر تشدد کرنے والوں کا محاسبہ کرنے کے لیے دلیرانہ طور سے طریقہ ہائے کار وضع کر رہے ہیں۔ اسی طرح خواتین کے زیرقیادت تنظیمیں مقامی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

رپورٹ میہں روہنگیا خواتین اور لڑکیوں کو درپیش سنگین حالات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جنہیں کئی طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور تحفظ کے حوالے سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہیں ملکی شہریت اور بنیادی انسانی حقوق سے منظم طور پر محروم رکھا گیا ہے۔

ٹام اینڈریوز نے حکومتوں اور عطیہ دہندگان سے کہا ہےکہ وہ ملک میں ابھرتے نئے انتظامی ڈھانچے، قوم پرست مزاحمتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر خواتین، لڑکیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کےخلاف جرائم پر احتساب یقینی بنائیں۔

ماہرین و خصوصی اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔