انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے یو این کی نئی عالمی مہم کا آغاز

گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانا بھی سڑکوں پر حادثات کا سبب بنتا ہے۔
World Bank/Stephan Gladieu
گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانا بھی سڑکوں پر حادثات کا سبب بنتا ہے۔

سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے یو این کی نئی عالمی مہم کا آغاز

صحت

اقوام متحدہ نے سڑکوں پر زندگی کو بہتر طور سے تحفظ دینے اور راستوں کو مشمولہ، محفوظ اور مستحکم بنانے کی نئی عالمی مہم شروع کی ہے۔

ہیش ٹیگ MakeASafetyStatement#  اس مہم کا بنیادی نعرہ ہے جس کے تحت سڑکوں پر تحفظ کے حوالے سے عملی اقدامات کی نئی دہائی کے بنیادی پیغامات کو اجاگر کیا جائے گا۔ یہ دہائی منانے کا مقصد 2030 تک سڑکوں پر حادثات میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد میں نصف حد تک کمی لانا ہے۔

Tweet URL

 

سڑکوں پر تحفظ کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ژاں ٹوڈ نے کہا ہے کہ بیشتر ممالک کے سیاسی ایجنڈے میں اس مسئلے کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگرچہ حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی لانے کے طریقوں سے سبھی آگاہ ہیں لیکن اس معاملے میں بہت کم عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔اس مہم کا مقصد لوگوں میں آگاہی بیدار کر کے سیاسی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

خاموش قاتل

نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ژاں ٹوڈ کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات 5 سے 29 سال تک عمر کے لوگوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہیں اور ایسی بیشتر اموات کم اور متوسط درجےکی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔

ہر سال 12 لاکھ لوگ ان حادثات میں ہلاک اور 4 تا 5 کروڑ زخمی ہو جاتے ہیں۔ یہ متاثرین ناصرف اپنے خاندان کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ حادثات کی قیمت ان کے ممالک کو بھی چکانا پڑتی ہے۔ تعلیم، اطلاعات، نفاذ قانون، بہتر سڑکوں اور گاڑیوں کی بدولت اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

'سیٹ بیلٹ پہنیں'

ژاں ٹوڈ کار ریس کے سابق معاون ڈرائیور رہ چکے ہیں جن کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تمام نشستوں پر سیٹ بیلٹ پہننے اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے یا کاروں کی ریس کے دوران ہیلمٹ استعمال کرنے سے ہی بہت سے حادثات سے بچاؤ ممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے ڈرائیوروں سے کہا ہے کہ وہ دوران سفر یا اس سے پہلے منشیات اور شراب استعمال نہ کریں۔ اسی طرح ڈرائیونگ کرتے ہوئے موبائل فون پر بات کرنے اور حد سے زیادہ تیزرفتار اختیار کرنے سے بھی پرہیز کیا جائے۔

معروف شخصیات کا ساتھ

اس مہم میں معروف و مقبول شخصیات اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں 'جے سی ڈی کاکس' اور 'ساچی اینڈ ساچی' کے ساتھ سڑکوں پر تحفظ کی صورتحال کو بہتر بنانے اور اس حوالے سے سیاسی ارادے کو فعال صورت دینے کا کام کریں گی۔ اس کا مقصد لاکھوں زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے درکار اقدامات اور مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہے۔

اس مہم کا آغاز نیویارک سے ہو رہا ہے اور یہ 2025 میں بھی سال بھر جاری رہے گی جس میں 80 ممالک کے 1,000 شہروں میں بل بورڈز، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر آگاہی بیدار کی جائے گی۔ اب تک 14 معروف شخصیات نے اس مہم کی حمایت کا وعدہ کیا ہے جن میں ٹینس کے کھلاڑی نووک جوکووچ، اکیڈمی اعزاز یافتہ اداکارہ اور 'یو این ڈی پی' کی خیرسگالی سفیر مشیل یوہ اور سپر ماڈل ناؤمی کیمبل بھی شامل ہیں۔

ان میں سے ہر شخصیت نے اس مہم کے حوالے سے اپنا بیان دیا ہے جیسا کہ 'میں گاڑی آہستہ چلاؤں گا' یا 'میں کسی نشہ آور شے کے زیراثر ہوتے ہوئے ڈرائیونگ نہیں کرتی'۔

اقوام متحدہ کی سفارشات

یہ مہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا بھر میں سڑکوں پر تحفظ کی صورتحال میں بہتری لانے کے حوالے سے حالیہ دنوں قرارداد کی منظوری کے بعد شروع کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں پر تحفظ کے حوالے سے عملی اقدامات کی دہائی کے لیے عالمگیر منصوبہ بندی پر عملدرآمد کر کے حادثات کی شرح میں کمی لائی جائے۔

اس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سڑکوں پر تحفظ کو یقینی طور پر سیاسی ترجیح بنائیں۔ اس ضمن میں سیٹ بیلٹ کے عدم استعمال، بچوں پر ڈرائیونگ کی پابندیوں، ہیلمٹ کے استعمال اور دوران سفر یا اس سے پہلے منشیات اور شراب کے استعمال نیز تیزرفتار ڈرائیونگ کے خلاف جامع قانون سازی کی جائے۔

اس میں رکن ممالک سےکہا گیا ہے کہ وہ صحت، نقل و حمل، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، امور داخلہ اور ماحولیات کی وزارتوں میں اس مسئلے پر رابطوں کا طریقہ کار بھی ترتیب دیں۔