انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: ڈارفر میں یو این امدادی کارواں پر حملہ اور لوٹ مار

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے امدادی سامان سے لدے ٹرک سوڈان روانگی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
© WFP
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کے امدادی سامان سے لدے ٹرک سوڈان روانگی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

سوڈان: ڈارفر میں یو این امدادی کارواں پر حملہ اور لوٹ مار

انسانی امداد

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے سوڈان کی ریاست وسطی ڈارفر میں ہزاروں لوگوں کے لیے بھیجے گئی امدادی خوراک کے ٹرکوں پر حملہ کر کے انہیں لوٹ لیا گیا ہے۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار کلیمنٹائن کویتا۔سلامی نے اس واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے باعث ہزاروں ضرورت مند لوگ امداد سے محروم ہو گئے ہیں۔

 

Tweet URL

'ڈبلیو ایف پی' نے سوڈان کے حکام سےکہا ہے کہ وہ واقعے کے ذمہ داروں کا محاسبہ یقینی بنائیں اور تمام متحارب فریقین انسانی امداد کے لیے محفوظ رسائی کی ضمانت دیں۔

تشویشناک حالات

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں انسانی حالات ابتر ہو چکے ہیں اور ملک قحط کے دھانے پر ہے۔ سوڈان کی نصف سے زیادہ آبادی یا دو کروڑ 60 لاکھ لوگوں کو ہنگامی سطح کی بھوک کا سامنا ہے جبکہ 94 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن میں سے 19 لاکھ نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔

ڈارفر خطے میں حالات زیادہ خراب ہیں جہاں سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور نیم فوجی ریپڈ سپورت فورسز (آر ایس ایف) کے مابین شدید لڑائی جاری ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق ڈارفر میں آٹھ لاکھ لوگوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جہاں شمالی ڈارفر کے گنجان آباد دارالحکومت الفاشر میں جنگ سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے اور بنیادی خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ہنگامی ضروریات

اقوام متحدہ کے ادارے مشکل حالات اور عدم تحفظ کے باوجود لاکھوں لوگوں کو مدد اور تحفظ پہنچا رہے ہیں۔ یونیسف نے اپنے شراکت داروں کے تعاون سے بچوں اور ان کے خاندانوں کو پینے کا صاف پانی، طبی خدمات اور غذائی قلت کی نشاندہی کی سہولت مہیا کی ہے۔

'ڈبلیو ایف پی' نے بھی بھوک کے بحران پر قابو پانے کے لیے اپنے ہنگامی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے اور اس سلسلے میں 87 لاکھ لوگوں کو مدد پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ فصلوں کی کٹائی سے پہلے کے موسم میں قحط کے خطرے کو روکنے کے لیے بڑی مقدار میں انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی ضروری ہے۔

سوڈان کے لیے طلب کردہ 2.7 ارب ڈالر کے مالی وسائل میں سے اب تک 447.4 ملین ڈالر ہی موصول ہو پائے ہیں۔ اقوام متحدہ نے رواں سال ایک کروڑ 47 لاکھ لوگوں کو مدد پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کا حصول موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے۔