گوتیرش کا چھوٹے ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی سفارشات کا خیر مقدم
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی کانفرنس میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے طے کردہ مضبوط سفارشات کا خیرمقدم کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے غیرقانونی پھیلاؤ، منتقلی اور غلط استعمال سے دنیا بھر میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ ہتھیار تنازعات اور مسلح تشدد کو ہوا دے رہے ہیں جس کی انسانوں کو تباہ کن قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے بارے میں لائحہ عمل سے متعلق چوتھی جائزہ کانفرنس کے اختتام پر اپنے پیغام میں کہی ہے۔
جون کے آغاز میں سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ یہ کانفرنس انسانیت کو درپیش ایک مشکل اور خطرناک وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب نئی جنگوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور ان میں ہلکے ہتھیار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
امید افزا پیش رفت
اپنے ترجمان کی جانب سےجاری کردہ پیغام میں انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے تکنیکی ماہرین کے گروپ کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ ماہرین چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی تیاری، ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے حوالے سے آنے والی جدت پر نظر رکھیں گے اور ان کا جائزہ لیں گے۔
سیکرٹری جنرل نے اس معاملے میں صنفی اعتبار سے حساس پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنانے کے عزم کو سراہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، انتونیو گوتیرش کو یقین ہے کہ کانفرنس میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت 2030 میں ہونے والی آئندہ جائزہ کانفرنس سے قبل ان ہتھیاروں پر قابو پانے کے لیے اجتماعی اور قومی سطح پر ہونے والی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ستمبر میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل میں چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی صنعت و تجارت سے وابستہ لوگ دنیا کے مستقبل کو مزید پرامن بنانے کے لیے موثر عملی اقدامات تجویز کریں گے۔
پرتشدد اموات کی بڑی وجہ
سیکرٹری جنرل کے نئے ایجنڈا برائے امن میں بھی تنازعات کو روکنے اور قیام امن کی خاطر چھوٹے ہتھیاروں پر قابو پانے کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ اس میں ان ہتھیاروں کی طلب و رسد سے نمٹنے کے لیے علاقائی، قومی اور عالمی سطح پر کوششوں کو بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق چھوٹے ہتھیار پرتشدد اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور دنیا میں پیش آنے والے قتل کے تقریباً نصف واقعات میں یہی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔
چھوٹے ہتھیاروں کی تیاری، ان کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن میں آنے والی جدت اور تھری ڈی پرنٹنگ کے باعث ان کے غیرقانونی پھیلاؤ کی رفتار میں بھی تیزی آ رہی ہے۔