انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی جسمانی سرگرمیوں سے دور، ڈبلیو ایچ او

دنیا کے تقریباً نصف ممالک میں گزشتہ دہائی کے دوران جسمانی فعالیت قدرے بڑھ گئی ہے۔
Unsplash/Trust Katsande
دنیا کے تقریباً نصف ممالک میں گزشتہ دہائی کے دوران جسمانی فعالیت قدرے بڑھ گئی ہے۔

دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی جسمانی سرگرمیوں سے دور، ڈبلیو ایچ او

صحت

دنیا کے 31 فیصد بالغ افراد صحت کے لیے ضروری جسمانی سرگرمی نہیں کرتے۔ 2010 اور 2022 کے درمیان جسمانی عدم فعالیت کا شکار لوگوں کی تعداد میں 5 فیصد اضافہ ہوا جسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تشویش ناک رحجان قرار دیا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2030 تک جسمانی غیرفعالیت کا شکار بالغوں کی تعداد بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

Tweet URL

ادارے کی ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جسمانی غیرفعالیت دل کی بیماریوں اور فالج، ٹائپ 2 ذیابیطس، ڈیمنشیا اور چھاتی و بڑی آنت کے سرطان جیسے امراض کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔ بالغوں کو ہر ہفتے 150 منٹ کی متعدل یا 75 منٹ کی بھرپور جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ اس جائزے کے نتائج معروف طبی جریدے دی لینسٹ میں شائع ہوئے ہیں۔

ایشیائی الکاہل خطہ سرفہرست

جسمانی غیرفعالیت کی سب سے زیادہ شرح اعلیٰ آمدنی والے ایشیائی الکاہل خطے (48 فیصد) اور جنوبی ایشیا میں (45 فیصد) دیکھی گئی ہے۔ زیادہ آمدنی والے مغربی ممالک میں یہ شرح 28 فیصد اور اوشیانا میں 14 فیصد تک ہے۔

جائزے کے مطابق جسمانی عدم فعالیت کے حوالے سے جنس اور عمر کے درمیان تفاوت برقرار ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں جسمانی غیرفعالیت اب بھی زیادہ ہے۔ مردوں میں جہاں یہ شرح 29 فیصد دیکھی گئی وہیں خواتین میں اس کا  تناسب 34 فیصد تک تھا۔

بعض ممالک میں، یہ فرق 20 فیصد تک ہے۔ 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ دوسرے بالغوں کے مقابلے میں کم متحرک ہوتے ہیں جس سے معمر بالغوں میں جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ یہ جائزہ سرطان اور دل کی بیماریوں میں کمی لانے اور جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کے ذریعے ذہنی صحت کو بہتر بنانے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ سبھی کو جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کے عزم کی تجدید کرنی چاہیے اور اس تشویشناک رجحان کو روکنے کے لیے مضبوط پالیسیوں اور مالی وسائل میں اضافے کو ترجیح دینا ہو گی۔

صحت عامہ کے لیے خاموش خطرہ

'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ فروغ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر روڈیگر کریچ نے کہا ہے کہ جسمانی غیرفعالیت عالمگیر صحت عامہ کے لیے ایک خاموش خطرہ ہے جس کا دائمی بیماریوں کا بوجھ بڑھانے میں اہم کردار ہے۔ عمر، ماحول اور ثقافتی پس منظر جیسے عوامل پر غور کرتے ہوئے لوگوں کو زیادہ فعال ہونے کی ترغیب دینے کے اختراعی طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں کو سب کے لیے قابل رسائی، سستی اور لطف اندوز بنا کر غیر متعدی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے اور صحت مند و مفید معاشرے تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے کہنا ہے کہ سب افراد کو جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کی کوشش کرنی چاہیے۔
© UNICEF/Igor Isanovic
عالمی ادارہ صحت کے کہنا ہے کہ سب افراد کو جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جسمانی فعالیت میں اضافہ

جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا کے تقریباً نصف ممالک میں گزشتہ دہائی کے دوران جسمانی فعالیت قدرے بڑھ گئی ہے۔ 22 ممالک 2030 تک جسمانی غیرفعالیت کو 15 فیصد تک کم کرنے کے عالمی ہدف تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

ان نتائج کی روشنی میں 'ڈبلیو ایچ او' نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر اقدامات کے علاوہ مقامی سطح پر کھیلوں، فعال تفریح اور نقل و حمل (پیدل چلنا، سائیکل چلانا اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال) کے ذریعے جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دیں اور اس مقصد کے لیے اپنی پالیسی کے نفاذ کو مضبوط کریں۔

سازگار ماحول کی ضرورت

'ڈبلیو ایچ او' میں جسمانی سرگرمیوں سے متعلق شعبے کی سربراہ ڈاکٹر فیونا بل نے کہا ہے کہ جسمانی سرگرمی کو فروغ دینا انفرادی طرز زندگی کے انتخاب کو فروغ دینے سے بہتر ہے۔ اس کے لیے پورے معاشرے کے کردار اور ایسے ماحول کی ضرورت ہوگی جس میں ہر ایک کے لیے مزید متحرک ہونا آسان اور محفوظ ہو اور وہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے بہت سے طبی فوائد حاصل کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کم ترین فعال لوگوں تک پہنچنے اور جسمانی سرگرمی کے فروغ اور اسے بہتر بنانے کے طریقوں تک رسائی میں عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے حکومت اور غیر سرکاری فریقین کے مابین شراکت داری پر مبنی اجتماعی کوششوں اور اختراعی طریقوں کی ضرورت ہو گی۔