انسانی کہانیاں عالمی تناظر

منشیات کے عادی افراد میں 20 فیصد اضافہ، ورلڈ ڈرگ رپورٹ

سال 2012 سے 2022 کے عرصہ میں غیرقانونی منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
IRIN/Sean Kimmons
سال 2012 سے 2022 کے عرصہ میں غیرقانونی منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

منشیات کے عادی افراد میں 20 فیصد اضافہ، ورلڈ ڈرگ رپورٹ

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ کے ادارہ انسداد جرائم و منشیات (یو این او ڈی سی) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ والے کا کہنا ہے کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے اس کے عادی لوگوں کو ثابت شدہ بہترین علاج اور مدد تک رسائی مہیا کرنا ہو گی۔ اس کے ساتھ منشیات کی خرید و فروخت سے نمٹنے اور اس کی روک تھام پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

Tweet URL

انہوں نے یہ بات منشیات کے استعمال اور اس کی غیرقانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر کہی ہے جو ہر سال 26 جون کو منایا جاتا ہے۔ دنیا کو منشیات سے پاک کرنے کے اقدامات میں اضافہ کرنا اس دن کا مقصد ہے۔

رواں برس انسداد منشیات کی عالمگیر مہم میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ منشیات کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے سائنس، تحقیق، انسانی حقوق کے مکمل احترام اور ہمدردی پر مبنی موثر پالیسیاں ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ منشیات کے استعمال کے سماجی، معاشی اور طبی اثرات کی گہری سمجھ بوجھ بھی ہونی چاہیے۔

کیمیائی افیون کا مسئلہ

اس دن پر 'یو این او ڈی سی' کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2012 سے 2022 کے عرصہ میں غیرقانونی منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اس وقت دنیا میں 22 کروڑ 80 لاکھ لوگ حشیش، 6 کروڑ افیون، 3 کروڑ ایم فیٹامائن، 2 کروڑ 30 لاکھ کوکین اور 2 کروڑ ایکسٹیسی (وقتی طور پر سرخوشی کا احساس دلانے والا نشہ) استعمال کرتے ہیں۔

منشیات کی بھاری مقدار کے استعمال سے ہونے والی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا بڑا سبب بلند آمدنی والے بہت سے ممالک میں کیمیائی (سنتھیٹک) افیون کا استعمال ہے جو فینٹانائل سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

گولڈن ٹرائی اینگل

رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا کے علاقے گولڈن ٹرائی اینگل میں منشیات کے سمگلروں جنگلی حیات کی سمگلنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور قدرتی وسائل کے غیرقانونی طریقے سے حصول جیسے جرائم میں ملوث عناصر سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔

اس مجرمانہ سرگرمی کا سب سے زیادہ نقصان بے گھر، غریب اور تارک وطن لوگوں کو ہوتا ہے اور بعض اوقات انہیں اپنی بقا کے لیے افیون کی کاشت اور قدرتی وسائل کو غیرقانونی طریقے سے حاصل کرنے کا کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ منشیات استعمال کرنے کے بھی عادی ہو جاتے ہیں یا قرض کی دلدل میں پھنس کر جرائم پیشہ گروہوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

نائیجر کے علاقے نیامے میں سرکاری قبضے میں لی گئی منشیات کو جلایا جا رہا ہے۔
© UNODC
نائیجر کے علاقے نیامے میں سرکاری قبضے میں لی گئی منشیات کو جلایا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی نقصان

غادہ والے کا کہنا ہے کہ ان غیرقانونی جرائم کے باعث جنگلاتی رقبے میں کمی آتی ہے، زہریلے فضلے کو تلف کرنے اور قدرتی وسائل کے کیمیائی مادوں سے آلودہ ہونے کے نتیجے میں ماحولیاتی انحطاط بڑھ جاتا ہے۔

منشیات کی پیداوار، سمگلنگ اور استعمال سے عدم استحکام اور عدم مساوات میں شدت آتی ہے جبکہ لوگوں کی صحت، تحفظ اور بہبود کو ناقابل بیان نقصان پہنچتا ہے۔

حشیش پر پابندی اٹھانے کا نقصان

2022 میں کوکین کی سالانہ پیداوار 20 فیصد اضافے کے بعد 2,757 ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ رسد و طلب میں اضافہ ہونے سے ایسے ممالک میں تشدد بھی بڑھ گیا جن کا کوکین کی ترسیل کے عمل میں کوئی تعلق ہوتا ہے۔ ان میں ایکواڈور اور غرب الہند کے ممالک نمایاں ہیں۔ علاوہ ازیں، ترسیل کے آخری مرحلے میں منشیات خریدنے والے مغربی اور وسطی یورپ کے بعض ممالک میں طبی مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا۔

کینیڈا، یوروگوئے اور امریکہ میں 27 جگہوں پر حشیش کو قانونی قرار دیے جانے سے اس کے نقصان دہ استعمال میں بھی اضافہ ہو گیا۔ بیشتر حشیش میں ایسا مادہ (ڈیلٹا 9۔ٹیٹرا ہائیڈرو کینا بائیونل) بھی شامل ہوتا ہے جسے اس منشیات میں فعال نفسی کا سبب بننے والا اہم ترین جزو سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حشیش کی فروخت اور استعمال کو قانونی قرار دیے جانے سے کینیڈا اور امریکہ میں اسے باقاعدگی سے استعمال کرنے والوں میں خودکشی کی کوشش کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

کابل میں ایک شخص ہیروئن کا نشہ کر رہا ہے۔
UNAMA/Najeeb Farzad
کابل میں ایک شخص ہیروئن کا نشہ کر رہا ہے۔

'یو این او ڈی سی' کی امید

'یو این او ڈی سی' کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صحت کا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حق ہے اور کسی فرد کے منشیات استعمال کرنے یا قید و حراست میں ہونے کے سبب یہ حق چھینا نہیں جا سکتا۔

حکومتوں، اداروں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم پر قابو پانے کے لیے ثابت شدہ موثر منصوبوں سے کام لیں۔

'یو این او ڈی سی' نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ لوگ منشیات کا استعمال روکنے کے اقدامات میں مدد دیں گے اور اس حوالے سے مقامی سطح پر رضاکارانہ طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو فروغ دیں گے۔