آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائے بغیر آن لائن جھوٹ روکنا ضروری، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو انسانی حقوق مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے آن لائن نفرت اور جھوٹ کے پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان پر قابو پانا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ گمراہ کن اور غلط اطلاعات، اظہارِ نفرت اور اطلاعاتی ماحول کو لاحق دیگر خطرات تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں، جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے صحت عامہ اور ماحولیاتی اقدامات کو نقصان ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی نے اس صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے اور آن لائن دنیا میں بچوں سمیت کمزور اور غیرمحفوظ طبقات کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات اطلاعاتی دیانت کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی اصولوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گمراہ کن اور غلط اطلاعات اور نفرت کا اظہار تعصب اور تشدد میں اضافہ کر رہا ہے، اس سے تقسیم اور تنازعات کو ہوا مل رہی ہے، اقلیتوں کو نفرت کا سامنا ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت اور دیانت متاثر ہو رہی ہے۔ ان حالات میں اطلاعاتی دیانت کے لیے اقوام متحدہ کے عالمی اصول ان تمام مسائل کے حل کا آغاز ہیں۔
اطلاعاتی دیانت کے پانچ اصول
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر (نیویارک) میں منعقدہ اس تقریب میں سیکرٹری جنرل نے اطلاعاتی دیانت کے اصولوں کی تفصیلی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی اعتماد اور مضبوطی، غیرجانبدار، آزاد اور تکثیری صحافت، صحت مند ترغیبات، شفافیت و تحقیق اور عوامی اختیار کی صورت میں ان پانچ اصولوں کی بنیاد مزید انسان دوست اطلاعاتی ماحول کے تصور پر ہے۔
یہ اصول ایسا اطلاعاتی ماحول تخلیق کرنے میں مدد دیتے ہیں جہاں انسانی حقوق برقرار اور محفوظ ہوں اور تمام لوگوں کا مستقبل پائیدار ہو۔ یہ مستحکم و مشمولہ ترقی، موسمیاتی اقدامات، جمہوریت اور امن کے لیے مضبوط بنیاد مہیا کرتے ہیں۔ یہ مستقبل کا ایک واضح لائحہ عمل پیش کرتے ہیں اور ان کی بنیاد انسانی حقوق بشمول اظہار اور رائے کی آزادی کے حق پر ہے۔
سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے یہ اصول رکن ممالک، نوجوانوں کے رہنماؤں، ماہرین علم، سول سوسائٹی اور کمپنیوں اور ذرائع ابلاغ سمیت نجی شعبے کے ساتھ وسیع تر مشاورت کے بعد ترتیب دیے گئے ہیں۔ ان مشاورتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی اکثریت اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے خدشات سے اتفاق کرتی ہے اور اس کے حل ڈھونڈ رہی ہے۔
جمہوریت کے لیے خطرہ
انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ اطلاعاتی دیانت کو لاحق خطرات نئے نہیں ہیں لیکن اب یہ غیرمعمولی رفتار سے ڈیجیٹل دنیا میں پھیل رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے اس پھیلاؤ کی رفتار کو اور بھی تیز کر دیا ہے۔ سائنس، حقائق، انسانی حقوق، صحت عامہ اور موسمیاتی اقدامات کو حملوں کا سامنا ہے۔
جب اطلاعاتی دیانت کو ہدف بنایا جاتا ہے تو جمہوریت بھی اس کا نشانہ بنتی ہے جس کا دارومدار ہی حقیقت کے مشترکہ اور مبنی بر حقائق تصور پر ہوتا ہے۔ جھوٹے بیانیے، توڑے موڑے حقائق اور جھوٹ سے شبہات، بداعتمادی اور عدم شمولیت کو فروغ ملتا ہے۔ ان سے سماجی ہم آہنگی کمزور پڑ جاتی ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف مزید ناقابل رسائی ہو جاتے ہیں۔
غیر شفاف الگورتھم لوگوں کو اطلاعاتی فریب کا شکار بنا دیتے ہیں اور نسل پرستی، تعصب اور ہر طرح کی تفریق کو مضبوط کرتے ہیں۔ خواتین، پناہ گزین اور اقلیتیں ان کے عام اہداف ہوتے ہیں۔ حقوق کے کارکنوں، محققین، سائنس دانوں اور رہنماؤں کو ہراساں کیا جاتا اور دھمکایا جاتا ہے۔
یہ نقصان ڈیجیٹل حدود سے تجاوز کر کے ایسے اربوں لوگوں کو بھی متاثر کرنے لگتا ہے جو انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے۔ جب ویکسین اور دیگر طبی معاملات کے بارے میں جھوٹ پھیلایا جاتا ہے تو زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی اپنی کارروائیوں کو بھی نقصان ہوتا ہے جس کے عملے کو جھوٹ اور مہمل سازشی کہانیوں کی بھرمار سے نمٹنا پڑتا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری
سیکرٹری جنرل نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور دیگر متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے لوگوں اور اپنے صارفین کی بات سنیں اور ان پر عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے بعض فریقین پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے لوگوں اور معاشروں کو اپنی ٹیکنالوجی سے پہنچنے والے نقصان کا اعتراف کریں۔ ان کمپنیوں کے پاس دنیا بھر میں لوگوں اور معاشروں کے نقصان کو کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے پاس اپنے کاروباری نمونوں میں تبدیلی لانے کی بھی صلاحیت ہے جو اس وقت گمراہ کن اطلاعات اور نفرت سے منافع کمانے کے تصور پر استوار ہیں۔
اشتہاری اداروں اور تعلقات عامہ کی صنعت کو چاہیے کہ وہ نقصان دہ مواد کا پھیلاؤ اور اس سے فائدہ اٹھانا بند کریں اور اطلاعاتی دیانت کو مضبوط بنائیں۔ موسمیاتی بحران بھی خاص تشویش کا حامل مسئلہ ہے۔ غلط اطلاعات پر مبنی مربوط مہمات کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو کمزور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے تخلیق کاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہری ماحول دوست اقدامات کے لیے استعمال نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ تعلقات عامہ کے ادارے ایسے گاہکوں کے لیے کام کریں جو لوگوں کو گمراہ اور کرہ ارض کو تباہ نہیں کرتے۔
اظہارِ رائے کا احترام
انہوں نے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ادارتی معیارات کو بہتر بنائیں اور ان کا اطلاق کریں۔ حقائق اور حقیقت کی بنیاد پر معیاری صحافت کر کے انسانیت کے مستقبل کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اشتہارات کے لیے ایسے گاہک ڈھونڈیں جو مسئلہ پیدا کرنے کے بجائے اسے حل کرنے والے ہوں۔
اسی طرح، حکومتوں کو چاہیے کہ وہ آزاد، قابل عمل اور تکثیری ابلاغ کے لیے حالات تخلیق کریں اور انہیں برقرار رکھیں۔ صحافیوں کے مضبوط تحفظ کو یقینی بنائیں اور انٹرنیٹ کو بند کرنے جیسے اقدامات سے گریز کریں اور رائے اور اظہار کی آزادی کے حق کا احترام کریں
انہوں نے واضح کیا کہ ہر فرد کو حملے کے خوف سے بے نیاز ہو کر اپنی بات کہنےکا حق ہونا چاہیے۔ اسی طرح، ہر ایک کو ہر طرح کے تصورات اور اطلاعات کے ذرائع تک رسائی کے قابل ہونا چاہیے۔کسی فرد کو ایسے الگورتھم کے رحم و کرم پر نہیں ہونا چاہیے جس پر اس کا کوئی اختیار نہ ہو، جسے اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ بنایا گیا ہو اور جو نجی معلومات جمع کرنے کے لیے اس کے طرزعمل کی نگرانی کرتا ہو۔
کامیابی کی امید
سیکرٹری جنرل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا کہ ان اصولوں کا مقصد لوگوں کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔ یہ ایسے والدین کے لیے فائدہ مند ہیں جو اپنے بچوں کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کے کام آنے والے اصول ہیں جن کا مستقبل اطلاعاتی دیانت سے وابستہ ہے۔یہ اصول عوامی مفاد میں کی جانے والی صحافت کے لیے کارآمد ہیں جس کے ذریعے قابل اعتبار اور درست اطلاعات پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے شرکا سے کہا کہ اقوام متحدہ ان کی رہنمائی اور مدد کا منتظر ہے۔ سبھی کو احتساب، انتخاب کی آزادی اور اختیار کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اطلاعاتی دیانت کے حامی اکثریت میں ہیں اور باہم مل کر یہ مقصد حاصل کرنا مشکل نہیں۔