بنگلہ دیش: مون سون بارشوں میں روہنگیا پناہ گاہیں تباہ، ہزاروں بے گھر
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ جنوبی بنگلہ دیش میں مون سون کی شدید بارشوں کے نتیجے میں پناہ گاہیں تباہ ہونے کے باعث ہزاروں روہنگیا بے گھر ہو گئے ہیں جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔
'یو این ایچ سی آر' اور اس کے شراکت دار بے گھر ہونے والے آٹھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو مدد دینے میں مصروف ہیں جن میں بڑی تعداد میانمار سے تعلق رکھنے والے روہنگیا لوگوں کی ہے ۔
ادارے کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو پناہ کے علاوہ خوراک اور گھریلو ضرورت کی اشیا اور جسمانی و نفسیاتی صحت کی خدمات تک رسائی بھی درکار ہے۔
بارشوں سے متاثرہ ساحلی علاقے کاکس بازار میں لاکھوں روہنگیا پناہ گزین ہیں جنہوں نے 2017 میں میانمار کی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بنگلہ دیش میں پناہ لے لی تھی۔
موسمی آفات سے نقصان
بابر بلوچ کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات کے بدترین اثرات کا سامنا ہے۔ 2017 سے اب تک کاکس بازار میں پہاڑی تودے گرنے اور سیلاب کے 2017 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ علاقے میں مزید بارشوں اور ان کے نتیجے میں مزید بڑے پیمانے پر نقصان بھی متوقع ہے۔
امدادی کوششوں میں مدد دینے کے لیے 'یو این ایچ سی آر' نے عطیہ دہندگان سے ہنگامی اپیل جاری کی ہے جبکہ کیمپوں میں امدادی کوششوں کو مالی وسائل کی شدید قلت کے باعث رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
ادارے نے رواں برس بنگلہ دیش میں امدادی کاروائیوں کے لیے 275 ملین ڈالر جاری کرنے کی اپیل کر رکھی ہے تاہم اب تک 25 فیصد مالی وسائل ہی میہا ہو سکے ہیں۔
'یو این ایچ سی آر' کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پناہ گزینوں کے عالمی فورم میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد بھی بہت ضروری ہے تاکہ روہنگیا لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے اور بنگلہ دیش کی حکومت پر دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔