انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ڈیجیٹل ذرائع کے غلط استعمال سے سائبر سپیس کو خطرات لاحق، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سائبر سپیس میں بڑھتے ہوئے خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Manuel Elías
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سائبر سپیس میں بڑھتے ہوئے خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

ڈیجیٹل ذرائع کے غلط استعمال سے سائبر سپیس کو خطرات لاحق، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی معیشتوں اور معاشروں میں انقلاب برپا کر رہی ہے لیکن اس کے بطور ہتھیار استعمال سے انسانوں اور کرہ ارض کے لیے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات سائبر سپیس میں بڑھتے ہوئے خطرات پر سلامتی کونسل کے مباحثے میں کہی ہے جہاں انہوں ںے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی انقلابی طاقت پر روشنی ڈالی اور اس سے لاحق خطرات کا تفصیلی تذکرہ کیا۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی انتہائی تیزرفتار سے ترقی پا رہی ہے اور اس کی بدولت لوگ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، شہریوں کو سرکاری خدمات اور اداروں تک رسائی مل رہی ہے اور معیشت، تجارت و مالیاتی شمولیت کو تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ 

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ناصرف ریاست بلکہ غیرریاستی کرداروں اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے بھی سائبر سپیس میں ضرررساں سرگرمیاں عروج پر ہیں جن سے لوگوں، معاشروں، ممالک اور دنیا کو نقصان ہو رہا ہے۔ 

ٹیکنالوجی اور نئے مسائل

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ڈیجیٹل آلات کو ہتھیاروں کے نظام بشمول خودکار نظام کا حصہ بنانے سے نئے خطرات سامنے آئے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا غلط استعمال مزید جدت اور اخفا اختیار کرتا جا رہا ہے اور نقصان دہ سافٹ ویئر کا پھیلاؤ جاری ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ہونے والی سائبر سرگرمیوں نے اس خطرے کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔

رینسم ویئر یا تاوان کے لیے کمپیوٹر نظام کو ہیک کرنا اس کی سنگین مثال ہے۔ یہ سرکاری و نجی اداروں اور لوگوں کے لیے لازمی اہمیت رکھنے والے اہم نظام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں اس تاوان کے طور پر 1.1 ارب ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ 

مالیاتی خطرات سے ہٹ کر دیکھاجائے تو نقصان دہ سائبر سرگرمیوں سے ادارے، انتخابی عمل اور آن لائن سالمیت کمزور ہو جاتی ہے، اعتماد کا خاتمہ ہوتا ہے، تناؤ بڑھتا ہے اور تشدد و جنگ کی بنیاد پڑتی ہے۔

بڑھتے سائبر جرائم

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے سنگین واقعات پریشان کن حد تک عام ہوتے جا رہے ہیں۔ صحت، بینکاری اور ٹیلی مواصلات کی اہم سرکاری خدمات میں تواتر سے خلل ڈالا جا رہا ہے جبکہ جرائم پیشہ تنظیمیں اور سائبر سپیس میں کام کرنے والے ضرررساں عناصر متواتر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ 

علاوہ ازیں، نفرت کے پرچارک آن لائن خوف اور تقسیم پھیلا رہے ہیں۔ اس نزاع میں بھلائی کے لیے ہیکنگ کا دعویٰ کرنے والے لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں اور بہت سے واقعات میں اچھے اور برے کام کرنے والوں میں فرق کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ 

'ڈیجیٹل قانون' کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے غیرمعمولی مواقع سے فائدہ اٹھا کر مزید منصفانہ، مساوی، پائیدار اور پرامن مستقبل تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ 

انہوں ںے ٹیکنالوجی کو مشترکہ بھلائی کے لیے استعمال میں لانے پر زور دیتے ہوئے اپنے تجویز کردہ نئے ایجنڈا برائے امن پر روشنی بھی ڈالی جس میں قیام امن کے لیے ہر طرح کی کوششوں میں 'روک تھام' کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ ایجنڈا بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مطابقت سے مضبوط نظام قائم کرنے اور ممالک کی جانب سے سائبر سپیس میں اور اس کے ذریعے تنازعات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کہتا ہے۔ جیسا کہ 'قانون سے متعلق نئے تصور' میں کہا گیا ہے، قانون کو مادی دنیا کی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی لاگو ہونا چاہیے۔

سلامتی کونسل کی ذمہ داری

انتونیو گوتیرش نے اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی سلامتی کے لیے عملی اقدامات کے حوالے سے جنرل اسمبلی کے عزم اور اس کے مخصوص ورکنگ گروپ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ سائبر سپیس سے متعلق زیرغور امور کو اپنے کام اور قراردادوں کا حصہ بنائے۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ شہریوں کے تحفظ، امن کارروائیوں، انسداد دہشت گردی اور امداد کی فراہمی جیسے کونسل کے بہت سے کام سائبر سپیس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کو زیرغور لائے جانے سے اس اہم سوال کے مزید موثر جوابات ڈھونڈںے میں مدد ملے گی۔ 

کانفرنس برائے مستقبل

انتونیو گوتیرش نے ستمبر میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں طے پانے والے فیصلے سائبر سپیس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کا اہم موقع فراہم کریں گے۔ اس دوران دیگر اقدامات کے علاوہ اہم ڈھانچے کو نقصان دہ سائبر سرگرمیوں سے تحفظ دینے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالے سے احتساب کا عمل بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ وہ سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے متمنی ہیں کہ ٹیکنالوجی تمام لوگوں اور کرہ ارض کی ترقی اور سلامتی کے لیے استعمال ہو۔