پناہ گزینوں کے حقوق سلب کرنے والے ضوابط سے اجتناب پر زور
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کا خیرمقدم کریں اور ایسی پالیسیاں اختیار کرنے سے گریز کریں جن سے ان کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
پناہ گزینوں کے حقوق پر غیرجانبدار ماہرین کے پلیٹ فارم نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کے انسانی حقوق کو برقرار رکھنے اور انہیں تحفظ دینے کی مشترکہ قانونی ذمہ داری کو تسلیم کریں اور اس پر عملدرآمد کو بہتر بنائیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے علاقائی ماہرین اور ذمہ داروں پر مشتمل پلیٹ فارم نے یہ بات پناہ گزینوں کے عالمی دن سے قبل کہی ہے جو کل منایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی دنیا تعمیر کرنے کی مشترکہ جستجو میں ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں جہاں کسی کو اپنی زندگی اور آزادی کے تحفط کی خاطر اپنا ملک چھوڑنا نہ پڑے۔
پناہ کے حق کی ضمانت
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ممالک اور معاشرے پناہ گزینوں کا خیرمقدم کر کے دلیرانہ مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ یہ ممالک ثابت کر رہے ہیں کہ پناہ کی تلاش کے حق کی ضمانت ملنی چاہیے اور اس پر ایسے انداز میں عمل ہونا چاہیے جس سے پناہ گزینوں کو بااختیار بنانے اور انہیں میزبان معاشروں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میں مدد ملے۔
تاہم، انہوں نے کہا ہے کہ دیگر جگہوں پر بہت سے قوانین، پالیسیاں اور طریقہ ہائے کار پناہ پر پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ان کی بنیاد خوف اور اخراج کی سیاست پر ہے۔ پناہ کے خواہاں لوگوں اور پناہ گزینوں کو سیاسی فوائد کی خاطر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ ایسا کرنے والے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور بچوں، خواتین اور مردوں کی تکالیف کو اہمیت نہیں دے رہے یا انہیں نظرانداز کر رہے ہیں۔
پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے انہوں نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں پناہ کے خواہاں لوگوں کو کسی تیسرے ملک میں نہ بھیجیں، انہیں ناجائز قید میں نہ ڈالیں، انہیں اجتماعی طور پر بیدخل نہ کیا جائے اور خشکی و سمندر میں انہیں اپنے ساحلوں کی طرف بڑھنے سے روکا نہ جائے۔
جبری بیدخلی سے پرہیز
ماہرین نے ممالک سے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دیگر ذمہ داریوں کو بھی پورا کریں۔ ان میں پناہ گزینوں کی جبری بیدخلی سے پرہیز کرنا بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی اصول ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی ایسے فرد کو اپنے ہاں آنے سے نہ روکیں جس کی زندگی اور آزادی کو اپنے آبائی ملک میں خطرہ ہو یا اسے وہاں تشدد، ظالمانہ، غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک، سزا یا ناقابل تلافی نقصان یا خطرے کا سامنا ہونے کا خدشہ ہو۔
1948 میں انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے میں پناہ کی تلاش اور اسے حاصل کرنے کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا تھا جس کی بنیاد مشترکہ انسانیت اور تحفظ کے حق پر ہے۔
یہ اعلامیہ پناہ گزینوں سے متعلق 1951 کے کنونشن اور انسانی حقوق کے بارے میں متعدد اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاہدوں کا محرک بنا۔ ان میں اپنے ممالک سے جان بچا کر نکلنے والوں کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور یہ معاہدے ان لوگوں کے حقوق کے تحفط، فروغ، احترام اور تکمیل کی مشترکہ ذمہ داری کے عکاس ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ جن ممالک نے تاحال کنونشن یا پناہ گزینوں سے متعلق معاہدوں کی توثیق نہیں کی وہ فی الفور ایسا کریں اور ایسے اقدامات واپس لیں جن سے پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مند لوگوں کا تحفظ کمزور ہوتا ہو اور انہیں اپنے بنیادی حقوق سے پوری طرح کام لینے میں رکاوٹوں کا سامنا ہو۔
ستمبر میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل سے قبل پناہ کی تلاش کے انسانی حق کو تحفط دینے اور ایسے مشمولہ و مساوی تعمیر کرنے کے لیے سبھی کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا جہاں پناہ گزینوں کا خیرمقدم ہو اور ان کے حقوق کا تحفظ اور احترام یقینی بنایا جائے۔