چین سے ویغور ڈاکٹر گلشن عباس بارے معلومات دینے کا مطالبہ
انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار میری لالور نے چین کے حکام سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں 20 سال کی قید کاٹنے والی ویغور ڈاکٹر گلشن عباس کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
چین کے حکام نے ڈاکٹر عباس کو 2019 میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ ان کی جائے قید، سزا کے حق میں پیش کی جانے والی شہادتوں اور ان کی طبی حالت کے بارے میں کسی کو آگاہی نہیں ہے۔
میری لالور کا کہنا ہے کہ انہوں نے چین کے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے کم از کم ڈاکٹر عباس کے خاندان کو ضرور ان کے بارے میں اطلاع دیں۔
دہشت گردی کا الزام
اطلاعات کے مطابق گلشن عباس کو کئی طرح کے طبی مسائل لاحق ہیں۔ انہیں ستمبر 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان پر عائد کردہ الزامات اور ان کے مقدمے کی کارروائی کو خفیہ رکھا گیا۔
دسمبر 2020 میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں سوال پوچھے جانے پر گلشن عباس کے خلاف الزامات کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہونے، دہشت گردی کی سرگرمیوں میں معاونت کرنے اور شہری نظم و نسق میں خلل ڈالنے کے لیے ہجوم کو اکٹھا کرنے کی پاداش میں سزا سنائی گئی ہے۔
انتقامی کارروائی کا خدشہ
گلشن عباس انسانی حقوق کی ویغور کارکن روشن عباس کی بہن ہیں جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہیں روشن عباس کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران ویغور آبادی پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے سے چھ روز کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔
میری لالور کا کہنا ہے کہ گلشن کو بظاہر اپنی بہن کی جانب سے چین کے حکام پر تنقید کرنے کی پاداش میں انتقامی کارروائی کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیشلے نے 2022 میں شِنگ جینگ ویغور خودمختار خطے کے بارے میں رپورٹ لکھی تھی۔ اس میں انہوں ںے بتایا تھا کہ جلاوطنی اختیار کرنے والے ایسے ویغور افراد کے خاندان کے ارکان کو دھمکیوں، خطرات اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے جو اپنے وطن میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تنقید کرتے ہیں۔
میری لالور نے اس معاملے میں چین کی حکومت کو بھی اپنے خدشات سے تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔
ماہرین و خصوصی اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔