پناہ گزینوں کے بارے میں تین چوتھائی لوگ ہمدردی کے حامل، سروے
بعض مغربی ممالک میں پناہ گزینوں کے حوالے سے رویوں میں سختی آئی ہے لیکن تین چوتھائی لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ یا مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کرنے والوں کو دوسرے ممالک میں پناہ ملنی چاہیے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور کثیرملکی تحقیقی و مشاورتی ادارے 'آپسوس' کے جائزے کی رو سے 52 ممالک میں 73 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک سمیت ہر جگہ لوگوں کو پناہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔
20 جون کو منائے جانے والے پناہ گزینوں کے عالمی دن سے قبل اس جائزے میں دنیا کے شمالی و جنوبی حصوں میں ایسے لوگوں کے حوالے سے پائی جانے والی سوچ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
پناہ گزینوں کی حمایت میں کمی
معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ممالک میں پناہ کی فراہمی کے حوالے سے لوگوں کی حمایت میں کمی آئی ہے جو 2022 میں یوکرین کے خلاف روس کے بڑے پیمانے پر حملے سے قبل بلند ترین سطح پر تھی۔
'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، یوگنڈا اور کینیا جیسے ممالک میں بدحال پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی طویل روایت رہی ہے وہاں کے لوگ پناہ گزینوں کی اپنے معاشروں سے یکجائی کے بارے میں زیادہ مثبت سوچ کے حامل ہیں۔ تاہم پناہ گزینوں کے بڑے میزبان اور مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ایک تہائی لوگ سمجھتے ہیں کہ پناہ گزین ان کے ملک میں افرادی قوت کی منڈی، معیشت اور ثقافت میں مثبت بہتری لائیں گے تاہم اتنی ہی تعداد میں لوگوں کی سوچ اس سے برعکس ہے۔
اس جائزے سے قومی سلامتی اور خدمات عامہ پر پناہ گزینوں کے اثرات کی بابت خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ممالک میں یہ خدشات اور بھی زیادہ ہیں جو بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔