دنیا کو بچانے کے لیے زمین کی غارت گری روکیں، یو این چیف
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا پر زور دیا ہے کہ زرخیز زمینوں کی تباہی کو روک کر زندگیوں، روزگار اور ماحولیاتی نظام کو تحفظ دینے کے اقدامات کیے جائیں۔
بنجرپن اور خشک سالی پر قابو پانے کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ہر لمحے فٹ بال کے چار میدانوں کے برابر زرخیز زمین بنجر ہو جاتی ہے۔ حکومتوں، کاروباروں اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ زمین کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ اربوں لوگوں کی سلامتی، خوشحالی اور صحت کا دارومدار زرخیز زمینوں پر ہے جو زندگیوں، روزگار اور ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھتی اور انہیں بہتر بناتی ہیں۔ لیکن انسان اسی زمین کو تباہ کر رہا ہے جو اس کی بقا کی ضامن ہے۔ بنجرپن، زمینی انحطاط اور خشک سالی اس وقت دنیا کو درپیش اہم ترین ماحولیاتی خطرات میں سے ایک ہیں۔
زمین کے لیے اتحاد
بنجرپن اور خشک سالی پر قابو پانے کا عالمی دن ہر سال 17 جون کو منایا جاتا ہے۔ امسال 'زمین کے لیے اتحاد۔ ہماری میراث۔ ہمارا مستقبل' اس دن کا خاص موضوع ہے جو زمین کی دیکھ بھال کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ زرخیز زمین کرہ ارض کے قیمتی ترین وسائل میں شمار ہوتی ہے جو دنیا بھر کے اربوں لوگوں کے استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دنیا میں 95 فیصد خوراک صحت مند زمین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، اس کے ذریعے کپڑا بنتا ہے، اس کی بدولت لوگ پناہ حاصل کرتے ہیں، انہیں روزگار میسر آتا ہے اور تباہ کن خشک سالی، سیلاب اور جنگلوں کی آگ سے تحفظ ملتا ہے۔
قدرتی وسائل پر دباؤ
بڑھتی ہوئی آبادی اور غیرمستحکم پیداوار و صرف کے باعث قدرتی وسائل کی طلب بڑھ گئی ہے جس سے زمین پر اس قدر دباؤ آ رہا ہےکہ وہ انحطاط کا شکار ہونے لگی ہے۔ اس کے ساتھ، بنجرپن اور خشک سالی کے باعث ہر سال ہزاروں لوگ نقل مکانی پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا ہےکہ دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں 25 سال سے کم عمر ایک ارب نوجوان ترقی پزیر ممالک میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے خطوں میں واقع ہیں جہاں لوگوں کا بقا کے لیے براہ راست انحصار زمین اور قدرتی وسائل پر ہے۔
دیہی آبادیوں کے لیے روزگار کے امکانات تخلیق کرنا ایک ایسا قابل عمل طریقہ ہے جس سے نوجوانوں کو ماحول دوست کاروباری مواقع تک رسائی ملتی ہے اور بہترین طریقہ ہائے کار کو بھی ترقی دی جا سکتی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اسے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ بنجرپن کا خاتمہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) میں اسے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کنونشن کی 30 ویں سالگرہ پر دنیا کو اپنے اقدامات کی رفتار میں غیرمعمولی اضافہ کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا ہےکہ اس مقصد کے لیے ریاض میں کنونشن کے ریاستی فریقین کی کانفرنس (کاپ16) کے لیے تیزی سے تیاری کرنا ہو گی اور یہ یقینی بنانا ہو گا کہ بات چیت میں نوجوانوں کی آواز بھی سنی جائے۔
اپنے پیغام کے آخر میں سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آئیے، باہم مل کر قدرتی ماحول اور انسانیت کے لیے ترقی یافتہ مستقبل کے بیج بوئیں۔