انسانی کہانیاں عالمی تناظر

قرضوں میں جکڑے غریب ممالک منصفانہ تجارتی لین دین کے حق دار، گوتیرش

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارہ تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے عالمی فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UNCTAD/Pierre Albouy
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارہ تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے عالمی فورم سے خطاب کر رہے ہیں۔

قرضوں میں جکڑے غریب ممالک منصفانہ تجارتی لین دین کے حق دار، گوتیرش

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ترقی کا حق لاینحل طور سے تجارت کے ساتھ منسلک ہے اور قرض کی دلدل میں پھنسے غریب ترین ممالک بھی منصفانہ شرائط پر تجارتی لین دین کے حق دار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے عالمی فورم سے خطاب میں سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آج بین الاقوامی تجارتی نظام کو ہر جانب سے اس قدر دباؤ کا سامنا ہے کہ یہ کسی بھی وقت بکھر سکتا ہے۔ اسی طرح، بین الاقوامی مالیاتی نظام متروک، غیرفعال اور غیرمنصفانہ ہو گیا ہے جو قرض میں جکڑے ترقی پذیر ممالک کو تحفظ کی فراہمی میں ناکام ہے۔

Tweet URL

یہ فورم ادارے کے قیام کو 60 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے عالمی معیشت کو تمام انسانوں کے لیے مزید پائیدار اور مشمولہ بنانے کی راہ میں حائل بہت سے مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ 

'غیرجانبداری کی گنجائش نہیں'

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ نئی اور طویل جنگوں سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ عالمگیر قرضہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے اور غربت و بھوک سے متعلق ترقیاتی اشاریے مزید زوال کی خبر دے رہے ہیں۔ 

اس تشویش ناک منظرنامے، بڑھتی ہوئی ارضی سیاسی کشیدگی، عدم مساوات اور قرضوں کے ہوتے ہوئے ادارہ تجارت و ترقی کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جسے پائیدار اور مشمولہ عالمگیر معیشت یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہے۔

انہوں نے 'انکٹاڈ' کے پہلے سیکرٹری جنرل راؤل پریبیش کے مشہور الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ادارہ ترقیاتی مسائل پر غیرجانبدار نہیں رہ سکتا جیسا کہ عالمی ادارہ صحت ملیریا کے مسئلے پر غیرجانبدار نہیں رہ سکتا۔

واحد منڈی، واحد معیشت

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ تجارت اب دو دھاری تلوار بن چکی ہے یہ بیک وقت خوشحالی اور عدم مساوات، باہمی ربط اور محتاجی، معاشی اختراع اور ماحولیاتی انحطاط کا باعث ہے۔ 

انہوں نے 2019 کے بعد تقریباً تین گنا بڑھ جانے والی تجارتی رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے ممالک کے مابین بڑے پیمانے پر بات چیت کے لیے زور دیا۔ان میں بہت سی رکاوٹیں ارضی سیاسی مخاصمت کا نتیجہ ہیں جن کے ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دنیا متحارب دھڑوں میں تقسیم ہونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کو حاصل کرنے اور امن و سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی منڈی اور واحد عالمی معیشت کی ضرورت ہے جس میں غربت اور بھوک کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔