انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ بحران: گوتیرش کا ’بائیڈن امن منصوبے‘ کا خیر مقدم

اردن میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ کی تباہ کن جنگ کے فوری خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔
UN Photo/Mohammad Ali
اردن میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ کی تباہ کن جنگ کے فوری خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔

غزہ بحران: گوتیرش کا ’بائیڈن امن منصوبے‘ کا خیر مقدم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لڑائی کا خاتمہ ہو اور تمام یرغمالی رہا کیے جائیں۔

غزہ میں تباہ کن انسانی حالات پر اردن میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ماہ کی شدید جنگ کے بعد اب اس ہولناکی کو بند ہو جانا چاہیے۔

Tweet URL

انہوں نے گزشتہ دنوں صدر بائیڈن کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اتھائیں اور جنگ بندی کا معاہدہ کریں۔ 

زمینی راستے کھولنے کا مطالبہ

گزشتہ روز امریکہ نے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی تھی جس میں حماس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے 31 مئی کو پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیل پہلے ہی اس تجویز کو قبول کر چکا ہے۔ 

قرارداد میں تمام فریقین سے کہا  گیا ہے کہ وہ بلاتاخیر اور غیرمشروط طور پر اس معاہدے کی شرائط پر مکمل عملدرآمد کریں۔ 15 رکنی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے حق میں 14 ووٹ ڈالے گئے جبکہ روس رائے شماری سے غیرحاضر رہا۔

سیکرٹری جنرل نے متحارب فریقین سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اس میں غزہ کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت دینا بھی شامل ہے جس کا انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے۔غزہ کی جانب تمام راستے کھلے ہونے چاہئیں اور ان میں زمینی راستے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ 

انرا کا ناگزیر کردار

سیکرٹری جنرل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے اہم کردار کا تذکرہ بھی کیا۔ 

انہوں نےکہا کہ اس جنگ میں 'انرا' کی تنصیبات اور اس کے اہلکاروں پر حملے کیے گئے اور اسرائیل رہنماؤں نے اسے علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ناصرف دوران جنگ اس کی غزہ میں موجودگی ناگزیر ہے بلکہ اس کے بعد بھی 'انرا' کا علاقے میں اہم کردار ہو گا۔ 

ساٹھ فیصد رہائشی عمارتیں تباہ

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ غزہ میں 10 لاکھ سے زیادہ بچوں کو نفسیاتی مدد اور تحفظ کی فراہمی کے علاوہ اس امید کی بھی ضرورت ہے جو ان کے سکول انہیں مہیا کرتے تھے۔ فلسطینیوں کو درپیش بہت بڑے طبی، تعلیمی و دیگر مسائل پر قابو پانے میں مدد دینے کی صلاحیت اور اہلیت صرف 'انرا' کے پاس ہے۔ 

غزہ سے آنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق علاقے میں تقریباً 60 فیصد رہائشی اور 80 فیصد تجارتی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ علاقے میں طبی مراکز اور تعلیمی اداروں کی بہت بڑی تعداد بھی کھنڈر بن چکی ہے۔

امداد میں رکاوٹیں

سیکرٹری جنرل نے امداد کی رسائی میں رکاوٹوں کے باعث غزہ میں شدید نوعیت کے ہنگامی حالات کی بابت امدادی اداروں کے خدشات کو بھی دہرایا۔ 

انہوں نے بتایا کہ تقریباً نصف امدادی قافلوں کو مطلوبہ مقامات پر پہنچنے کی اجازت نہیں ملتی۔ انہیں راستے میں کئی طرح کی رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں یا انہیں سلامتی کے مسائل کی وجہ سے اپنا مشن منسوخ کرنا پڑتا ہے۔