انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان خانہ جنگی: ہسپتال کی بندش پر عالمی ادارہ صحت کو تشویش

سوڈان میں مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی سے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
UN Photo/Albert Gonzalez Farran
سوڈان میں مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی سے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

سوڈان خانہ جنگی: ہسپتال کی بندش پر عالمی ادارہ صحت کو تشویش

امن اور سلامتی

عالمی ادارہ صحت نے سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر میں جاری لڑائی کے باعث ہسپتال بند ہو جانے اور بیمار و زخمی لوگوں کو ضروری طبی خدمات کی عدم دستیابی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شمالی ڈارفر کے زیرمحاصرہ دارالحکومت الفاشر میں ساؤتھ ہسپتال ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملے کے بعد بند ہو گیا ہے۔ یہ علاقے کا واحد ہسپتال ہے جہاں جراحت کی سہولت بھی میسر تھی۔

Tweet URL

غیرسرکاری ادارے 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے بتایا ہے کہ حملہ آور جنگجوؤں نے ہسپتال سے سامان لوٹ لیا اور ایمبولینس گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے۔ ہسپتال بند ہو جانے کے بعد علاقے میں دو دیگر طبی مراکز پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور صحت کی خدمات تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔ 

سوڈان میں ملکی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی متحارب ملیشیا 'آر ایس ایف' کے مابین گزشتہ سال 15 اپریل سے لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

طبی مراکز کے تحفظ کا مطالبہ

عالمی ادارہ صحت نے دارالحکومت خرطوم کے جنوب میں واقع ریاست الجزیرہ میں واد النورہ کے طبی مرکز پر ایک اور حملے کی سختی سے مذمت کی ہے۔ اس واقعے میں ایک نرس ہلاک ہو گئی۔

ادارے نے طبی مراکز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی کارکنوں اور مریضوں کو لڑائی سے تحفط ملنا چاہیے۔ ایک روز قبل اس علاقے میں 'آر ایس ایف' کے حملے 100 سے زیادہ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

بھاری ہتھیاروں کا استعمال

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی واد النورہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آر ایس ایف نے اس کارروائی میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے جن میں توپخانے کی گولہ باری بھی شامل ہے۔ 

قبل ازیں ہائی کمشنر نے نے دونوں دھڑوں کے سربراہوں سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ وہ خبردار کر چکے ہیں کہ علاقے میں زیرمحاصرہ 18 لاکھ افراد کی زندگی کو جنگ کے علاوہ قحط سے بھی خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافے سے شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور فرقہ ورانہ تنازع مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

خوراک کا بحران

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی سے جنم لینے والے ہنگامی انسانی حالات اب دنیا میں بھوک کا سب سے بڑا بحران بنتے جا رہے ہیں۔ 

ادارے کے مطابق اس وقت سوڈان میں ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جن میں 50 لاکھ کو ہنگامی درجے کی بھوک درپیش ہے۔ یہ فصل کی کٹائی کے موسم میں غذائی قلت کا سامنا کرنے والے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد ہے اور ان میں سے بیشتر لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں شدید لڑائی کے باعث رسائی بہت محدود ہے۔