دہشتگردی اور انسانی بحرانوں سے مغربی افریقہ میں استحکام کو خطرہ
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ دنیا میں تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی، سماجی، ماحولیاتی اور سلامتی کے مسائل سے مغربی افریقہ میں امن و معاشی ترقی کے نقصان کو کثیرفریقی اور مشمولہ اقدامات کے ذریعے روکنا ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی میں مغربی افریقہ کے ممالک میں دہشت گردی نمایاں طور سے بڑھی ہے جس نے ترقی کے ثمرات کو ضائع کر دیا ہے۔ خطے میں حکومتوں کی غیرآئینی طریقے سے تبدیلی کے باعث حالات مزید بگڑ گئے ہیں جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
امینہ محمد نے یہ بات مغربی افریقی ممالک کی معاشی برادری (ایکوواس) کے قیام کی 49 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکوواس کی یہ سالگرہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل کی راہ مشکل ہے لیکن اس پر بہت سے امکانات بھی موجود ہیں۔ مسائل پر قابو پانے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کی خاطر ہر ملک کو درپیش پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے بیک وقت کثیرفریقی اور علاقائی اقدامات کرنا ہوں گے۔
مسائل کا اجتماعی حل
نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے موجودہ ذرائع سے کام لینے کے علاوہ اجتماعی طور پر مسائل کے نئے حل بھی تلاش کرنا ہوں گے۔
مغربی افریقہ میں بہت سے بحرانوں کے باعث امدادی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ ان بحرانوں نے جنگوں کے نئے خطرات پیدا کیے ہیں جن کے اثرات خطے سے باہر تک مرتب ہو سکتے ہیں۔ افریقن یونین کے ایجنڈا 2063 میں 'افریقہ کے تصور' کے ساتھ امن و سلامتی کو بھی فروغ دینا ہو گا اور اس کے ساتھ جمہوری اداروں کی مضبوطی بھی بہت اہم ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور اچھی حکمرانی کی اقدار اب بھی خطے کے لیے اہم ہیں۔ تاہم حالیہ واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ جمہوریت کے انداز پر سوالات اٹھا رہے ہیں جسے مقامی حقائق کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ خطے میں تنازعات کی بنیادی وجوہات پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔
پائیدار ترقی کا حصول
امینہ محمد نے کہاکہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب پیش رفت افسوسناک طور سے بے سمت ہے اور ان مقاصد کو قابل رسائی رکھنے کے لیے دلیرانہ اور انقلابی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔
انہوں نے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب کی منصفانہ منتقلی، نظام ہائے خوراک، ڈیجیٹل ربط، تعلیم و ہنر، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور سماجی تحفظ پر سرمایہ کاری کی ضرورت بھی واضح کی۔
مسائل کے حل کا نادر موقع
نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ستمبر میں ہونے والی کانفرنس برائے مستقبل عالمی انتظام میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے کا ایسا موقع ہو گا جو کئی نسلوں کے بعد آتا ہے۔ اس کی سیکرٹری جنرل کے نئے ایجنڈا برائے امن کے تحت امن و سلامتی کی صورتحال میں بہتری لانے کے حوالے سے بھی خاص اہمیت ہے۔
اس تناظر میں افریقہ موجودہ تنازعات کو ختم کرنے اور نئے تنازعات کو روکنے کے طریقے ڈھونڈنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس میں خواتین کی مرکزی اہمیت ہو گی۔
انہوں نے شرکا سے کہا کہ مستقبل کے نئے معاہدے کے لیے بات چیت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور وہ انہیں ہر پہلو سے اس میں شامل ہونے کے لیے کہتی ہیں۔
غزہ اور سوڈان میں جنگ بندی کا مطالبہ
نائب سیکرٹری جنرل نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے سوڈان اور غزہ میں جاری جنگوں کی جانب توجہ دلائی جن سے لوگوں اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کو ناقابل تصور تکالیف کا سامنا ہے۔
انہوں نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی اور مسئلے کے پائیدار دو ریاستی حل کی جانب بڑھنے کی ضرورت کو دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سب امن، افریقہ بھر میں مسلح تنازعات کے خاتمے اور دنیا بھر میں تمام جنگوں کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے کا متفقہ مطالبہ کرتے ہیں۔'