انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: خانہ جنگی اور قحط سے لاکھوں افراد کو ناقابل تصور مشکلات کا سامنا

پورٹ سوڈان میں بے گھر افراد کے لیے قائم کی گئی ایک عارضی پناہ گاہ میں ایک خاتون بچے کو کھانا کھلا رہی ہے۔
© WFP/Abubaker Garelnabei
پورٹ سوڈان میں بے گھر افراد کے لیے قائم کی گئی ایک عارضی پناہ گاہ میں ایک خاتون بچے کو کھانا کھلا رہی ہے۔

سوڈان: خانہ جنگی اور قحط سے لاکھوں افراد کو ناقابل تصور مشکلات کا سامنا

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں بچوں سمیت لاکھوں لوگوں کی زندگیاں ہولناک تشدد اور قحط کی نذر ہونے کا خطرہ ہے۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے سربراہ محمد رفعت نے پورٹ سوڈان سے جنیوا میں صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں شہریوں کے خلاف پرتشدد حملوں کی ہولناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ بدھ کو ریاست الجزیرہ کے علاقے واد النورہ میں 100 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 35 بچے بھی شامل تھے۔

Tweet URL

بچوں پر جنسی تشدد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی اس حملے کی مذمت کر چکے ہیں جس کی ذمہ داری سوڈانی فوج کی متحارب ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز پر عائد کی گئی ہے۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ بند کی جائے اور سوڈانی عوام کے لیے پائیدار امن یقینی بنانے کا عہد کیا جائے۔ 

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ حالیہ واقعہ اس حقیقت کی ایک اور افسوسناک یاد دہانی ہے کہ سوڈان کے بچے ہولناک تشدد کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ ایک سال کے دوران ہزاروں بچے ہلاک و زخمی ہو گئے ہیں۔ انہیں جنگ کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے اور وہ زیادتی سمیت ہر طرح کے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد پچاس لاکھ سے زیادہ بچوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ 

ایک کروڑ افراد بے گھر

سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر میں جاری شدید لڑائی سے آٹھ لاکھ شہریوں کو خطرات کا سامنا ہے۔

محمد رفعت کا کہنا ہے کہ سوڈان کے اندر یا باہر کام کرنے والی اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں کے لیے اس علاقے تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے تمام متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی میں سہولت دیں کیونکہ علاقے میں پانی اور ایندھن سمیت ہر طرح کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کے باعث لوگوں کی روزمرہ زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

گزشتہ برس 15 اپریل سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک کروڑ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنگ کے باعث غذائی عدم تحفظ لوگوں کی نقل مکانی کا بڑا سبب ہے۔ ملک بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے جبکہ 36 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 

بھٹکتے پناہ گزین 

محمد رفعت نے بتایا کہ 20 لاکھ لوگوں نے سوڈان کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے جن کی بڑی اکثریت چاڈ، جنوبی سوڈان اور مصر میں مقیم ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2,000 خاندان مصر، لیبیا اور سوڈان کے درمیان سرحدی راستوں میں بھٹک رہے ہیں جنہیں نہایت مشکل حالات کا سامنا ہے۔

مغربی اور وسطی افریقہ کے لیے 'یو این ایچ سی آر' کے ترجمان الفا سیدی با نے بتایا ہے کہ چاڈ میں چھ لاکھ سوڈانی پناہ گزین موجود ہیں جنہیں نہایت مشکل حالات کا سامنا ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں لوگ بدحالی کے عالم میں سرحد پار کر کے آ رہے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جنہیں ناقابل بیان تکالیف درپیش ہیں۔ 

حالیہ بحران سے پہلے بھی چاڈ نے چار لاکھ سے زیادہ سوڈانی شہریوں کو پناہ دے رکھی تھی۔ تاہم مالی وسائل کی قلت کے باعث اب ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پناہ، خوراک، تعلیم اور نفسیاتی مدد تک رسائی دینا مشکل ہو گیا ہے۔ 

'یو این ایچ سی آر' نے کہا ہے کہ سوڈان کے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے پانچ ممالک کو 1.4 بلین ڈالر کی ضرورت ہے لیکن اب تک اس میں نو فیصد وسائل ہی مہیا ہو پائے ہیں۔ 

بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچین لنڈمیئر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ سوڈان میں 65 فیصد آبادی کو طبی نگہداشت تک رسائی میسر نہیں۔ ملک میں زیادہ تر طبی سہولیات خرطوم میں ہیں جہاں خانہ جنگی نے طبی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ 

 ملک میں ضروریات کے مقابلے میں صرف 25 فیصد طبی سازوسامان موجود ہے جبکہ دشوار گزار علاقوں میں 20 تا 30 فیصد طبی مراکز ہی کسی حد تک فعال ہیں۔

ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے جس کے باعث ملک میں خسرے کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔ 

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ ملک میں ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض بھی پھیل رہے ہیں جبکہ زیابیطس، ہائپر ٹینشن، دل کی بیماریوں اور گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان ہے۔