انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار میں تشدد کی لہر اور شہریوں پر حملے تشویشناک، گوتیرش

میانمار کی ریاست راخائن میں نقل مکانی پر مجبور روہنگیا افراد کی ایک عارضی بستی۔
© UNICEF/Nyan Zay Htet
میانمار کی ریاست راخائن میں نقل مکانی پر مجبور روہنگیا افراد کی ایک عارضی بستی۔

میانمار میں تشدد کی لہر اور شہریوں پر حملے تشویشناک، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے میانمار میں بڑھتے ہوئے تشدد اور شہریوں کے خلاف حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ریاست راخائن اور ساگینگ کے علاقے میں میں فوج کے حالیہ حملوں کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں بہت سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

Tweet URL

ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل کو میانمار کے بگڑتے حالات سے خطے بھر میں مرتب ہونے والے اثرات پر تشویش ہے اور انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متفقہ طریقہ کار اختیار کرنے کے لیے کہا ہے۔

ہزاروں لوگ بے گھر

حالیہ عرصہ میں میانمار کی ریاست راخائن میں ملکی فوج اور اس کی مخالف ملیشیا اراکان آرمی کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں راخائن کی مسلمان اقلیتی آبادی روہنگیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جو کئی نسلوں سے اس علاقے میں قیام پزیر ہے تاہم اسے ملک کی مکمل شہریت کبھی نہیں مل سکی۔ 2017  میں ملکی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بہت سے روہنگیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے تھے جو تاحال وہیں موجود ہیں۔ 

مغربی میانمار میں راخائن نسل کے لوگوں اور روہنگیا کے خلاف مظالم سے تمام لوگوں کے تحفظ کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی جاری کردہ معلومات کے مطابق حالیہ تشدد میں راخائن اور روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والے 226,000 افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور انہیں نوآبادکاری کی ضرورت ہے۔

شدید غذائی عدم تحفظ

قبل ازیں، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا تھا کہ فوج علاقہ چھوڑنے والے غیرمسلح دیہاتیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنا رہی ہے اور انہیں لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ 

حملوں میں روہنگیا لوگوں کے سر تن سے جدا کیے جانے اور ان کے گھروں کو جلائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

اب میانمار کا شمار ایسے ممالک میں ہونے لگا ہے جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں شدید غذائی عدم تحفظ مزید بگڑ سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی سنگین پامالی

سٹیفن ڈوجیرک کا کہنا ہے کہ میانمار کے متعدد حصوں سے فضائی بمباری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی متواتر اطلاعات آ رہی ہیں اور ان کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ مغربی میانمار میں راخائن نسل کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات اور روہنگیا کے خلاف مظالم سے تمام لوگوں کو تحفظ دینے کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے تنازع کے تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کو ترجیح بنائیں اور فرقہ وارانہ تناؤ اور تشدد بھڑکانے سے پرہیز کریں۔

سٹیفن ڈوجیرک کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور متعلقہ فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ملک کے لیے اپنی نئی نمائندہ جولیا بشپ کے ساتھ تعاون کریں جو جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) اور ہمسایہ ممالک کے قریبی تعاون سے پائیدار امن کے لیے کام کر رہی ہیں۔