انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان سمیت پانچ ممالک دو سال کے لیے سلامتی کونسل کے رکن منتخب

افریقہ اور ایشیائی۔الکاہل ممالک کے گروہ سے پاکستان نے 182 اور صومالیہ نے 179 ووٹ حاصل کیے۔
UN Photo/Eskinder Debebe
افریقہ اور ایشیائی۔الکاہل ممالک کے گروہ سے پاکستان نے 182 اور صومالیہ نے 179 ووٹ حاصل کیے۔

پاکستان سمیت پانچ ممالک دو سال کے لیے سلامتی کونسل کے رکن منتخب

امن اور سلامتی

پاکستان، ڈنمارک، یونان، پانامہ اور صومالیہ دو سالہ مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن منتخب ہو گئے ہیں۔

پانچوں ممالک کا انتخاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیا۔ نومنتخب ارکان یکم جنوری 2025 سے ایکواڈور، جاپان، مالٹا، موزمبیق اور سوئزرلینڈ کی جگہ لیں گے جن کی مدت رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے ارکان کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آیا جنہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود ارکان میں سے دو تہائی ووٹ حاصل کیے۔ 

15 رکنی سلامتی کونسل کے پانچ دیگر غیرمستقل ارکان میں الجزائر، گیانا، جمہوریہ کوریا، سیرالیون اور سلوانیہ شامل ہیں جبکہ چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کی حیثیت مستقل ارکان کی ہے جنہیں ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے اور تمام رکن ممالک اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔ 

علاقائی گروہوں سے انتخاب

سلامتی کونسل میں 10 غیرمستقل ارکان کا انتخاب ممالک کے چار علاقائی گروہوں سے ہوتا ہے۔ ان میں افریقہ و ایشیا، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ و غرب الہند اور مغربی یورپ و دیگر ریاستی گروہ شامل ہیں۔

امسال تین علاقائی گروہوں کے امیدواروں نے ایک دوسرے سے مقابلہ کیا۔ ان میں دو ارکان کا انتخاب افریقی و ایشیائی الکاہل خطے، ایک کا لاطینی امریکہ و غرب الہند اور دو ممالک کا انتخاب مغربی یورپ اور دیگر ممالک سے ہونا تھا۔ 

نومنخب ارکان کی ان کے متعلقہ علاقائی گروہوں نے بھی توثیق کی تھی اور بڑی حد تک ان کا انتخاب بلامقابلہ عمل میں آیا۔

کس نے کتنے ووٹ لیے

انتخاب میں مجموعی طور پر 190 ممالک نے حصہ لیا جس میں رائے شماری کا ایک ہی دور ہوتا ہے۔

افریقہ اور ایشیائی۔الکاہل ممالک کے گروہ سے پاکستان نے 182 اور صومالیہ نے 179 ووٹ حاصل کیے جبکہ پانچ ممالک رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔ 

لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے پانامہ نے 183 ووٹ لیے جبکہ ارجنٹائن کو ایک ووٹ ملا۔ چھ ممالک رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔

مغربی یورپ اور دیگر ریاستوں کے گروہ سے ڈنمارک نے 184 اور یونان نے 182 ووٹ حاصل کیے جبکہ اٹلی اور ناروے کو ایک ایک ووٹ ملا اور دو ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے۔