موسمیاتی بحران کے جہنم سے نکلنے کا راستہ موجود، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج پر فوری قابو پانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی قدرت رکھتی ہے لیکن اس مقصد میں کامیابی کے لیے فوری اقدامات کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
عالمی یوم ماحولیات پر نیویارک میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کرہ ارض کے ماحول کو تحفط دینے کے لیے دستیاب طریقہ ہائے کار سے پوری طرح کام لینا ہو گا۔ موسمیاتی مسئلے پر انسان کی مثال ڈائنوسار کی نہیں بلکہ شہابیوں کی ہے۔ انسان ناصرف خطرے میں ہیں بلکہ یہ خطرہ خود انہی کا پیدا کردہ ہے اور انسانوں کے پاس اس پر قابو پانے کا طریقہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے یورپی کمیشن کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ مہینہ تاریخ میں گرم ترین مئی تھا۔ عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کے لیے ہر سال کاربن کے اخراج میں نو فیصد کمی لانا ہو گی۔
18 اہم ترین مہینے
عالمی موسمیاتی ادارے ـ(ڈبلیو ایم او) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس امر کا 80 فیصد امکان ظاہر کیا ہے کہ 2028 تک کم از کم ایک سال ایسا ہو گا جب عالمی حدت میں اوسط اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ انسان اپنی زمین کے ساتھ گویا روسی رولیٹ کھیل رہا ہے۔ دنیا کو موسمیاتی جہنم سے باہر نکلنے کا راستہ درکار ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسان اس کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خطرے کے دھانے سے واپسی اب بھی ممکن ہے تاہم اس کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔ اس کا دارومدار حالیہ دہائی میں اور خاص طور پر آئندہ 18 ماہ کے دوران سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں پر ہو گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات معاشی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے ضامن بھی ہوں گے۔
زندگی اور معیشتوں کی تباہی
موسمیاتی ابتری کے باعث مشرقی ایشیا سے امریکہ تک شدید موسمی واقعات کی رفتار بڑھ گئی ہے جس سے زندگیاں اور معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی حدت میں نصف ڈگری سیلسیئس اضافے کا مطلب یہ ہو گا کہ جزائر پر مشتمل بعض ممالک یا ساحلی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔
سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹکا میں برف کی تہہ ختم ہو سکتی ہے جس سے سطح سمندر میں تباہ کن حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ اگر عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں نہ رکھا گیا تو مونگے کے تمام جزیرے 300 ملین روزگار اپنے ساتھ لے کر سمندر میں ڈوب جائیں گے۔
معدنی ایندھن کا مافیا
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے تاہم موسمیاتی ابتری کے خالق یعنی معدنی ایندھن کے کاروبار ریکارڈ منافع کما رہے ہیں اور لوگوں کے دیے ٹیکس سے ٹریلین ڈالر کی امدادی قیمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔
تیل و گیس کی صنعت کے بہت سے ادارے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کا دکھاوا کر کے اس حوالے سے ہونے والی حقیقی کوششوں کو تشہیری اور تعلقات عامہ کی کمپنیوں کی اعانت سے تاخیر کا شکار رہے ہیں۔
تیل و گیس پر پابندی
انہوں نے تیل و گیس کی کمپنیوں سے کہا کہ وہ کرہ ارض کی تباہی میں حصہ دار نہ بنیں، آج سے معدنی ایندھن کے نئے خریدار لینا بند کریں اور اپنی موجودہ سرگرمیوں کو روکنے کے منصوبے بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں تخلیقی ذہن رکھنے والے لوگ پہلے ہی کرہ ارض کو تباہ کرنے کے بجائے اسے بچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے دنیا کے ہر ملک پر زور دیا کہ وہ معدنی ایندھن کی کمپنیوں کی تشہیر پر پابندی عائد کریں۔
امید افزا حالات
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا کے پاس اپنے تحفظ کے لیے سب کچھ موجود ہے۔ جنگلات اور سمندر اب بھی نقصان دہ کاربن کو جذب کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کا کاروبار ترقی کر رہا ہے اور اس میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں جبکہ دنیا میں 30 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔
گزشتہ برس ماحول دوست توانائی پر سرمایہ کاری نے ریکارڈ بلندیوں کو چھوا جو گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً دو گنا بڑھ چکی ہے۔ توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے وابستہ معاشی فوائد کی بدولت معدنی ایندھن کے استعمال کا خاتمہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
امیر ممالک کی ذمہ داری
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انسانیت اور کرہ ارض کا محفوظ ترین مستقبل یقینی بنانے کے لیے چار اقدامات بہت ضروری ہیں۔ ان میں کاربن کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی لانا، لوگوں اور قدرتی ماحول کو موسمی شدت کے واقعات سے تحفظ کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل میں اضافہ کرنا اور معدنی ایندھن کے کاروبار پر پابندیاں شامل ہیں۔
موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے امیر ترین ممالک پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہی ممالک سب سے زیادہ کاربن کارج کرتے ہیں۔ جی20 کی ترقی یافتہ معیشتوں کو اس حوالے سے مزید اور تیز رفتار اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی و مالی مدد بھی مہیا کرنا ہو گی۔
موسمیاتی انصاف
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قومی سطح کے منصوبوں کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کے ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینا چاہیے۔ اس ضمن میں 2030 اور 2035 تک اور ہر دہائی کے حوالے سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے ذیلی اہداف طے کرنا ضروری ہیں۔
ہر ملک کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں عملی اقدامات اٹھائے اور اپنا جائز کردار ادا کرے۔ دنیا کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔ جہاں تک موسمیاتی انصاف کا تعلق ہے تو یہ نہایت افسوناک بات ہے کہ اس مسئلے سے بری طرح متاثر ہونے والے بیشتر ممالک کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ پیدا کرنے میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایسا مستقبل ناقابل قبول ہے جہاں امیر لوگ ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں محفوظ ہوں جبکہ باقی دنیا ناقابل رہائش جگہوں پر گرمی کے تھپیڑے سہتی رہے۔
متحدہ اقدامات کی ضرورت
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی ان پر احسان نہیں بلکہ یہ تمام لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک لازمی عنصر ہے۔ دنیا بھر کے لوگ سیاست دانوں سے کہیں آگے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی آوازیں فیصلہ سازوں تک پہنچائیں اور ان کی رائے سنی جائے۔
کوئی ملک یا ادارہ موسمیاتی بحران کو اکیلا حل نہیں کر سکتا۔ اس میں تمام لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ اعتماد کے قیام، مسائل کا حل ڈھونڈنے اور دنیا کو تعاون کی راہ پر لانے کا کام کر رہا ہے۔
انہوں نے ہر سماجی سطح پر کام کرنے والے موسمیاتی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور دنیا کی اکثریت کی آواز ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنا کام جاری رکھیں، ہمت نہ ہاریں اور امید کو قائم رکھیں۔ یہ لوگوں کا آلودگی پھیلانے والوں اور اس سے منافع کمانے والوں سے مقابلہ ہے جس کو متحدہ کاوشوں کی بدولت جیتا جا سکتا ہے۔ اب متحرک ہونے، عملی قدم اٹھانے اور نتائج دینے کا وقت ہے۔