انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنگ کو بچوں کے لیے معمول زندگی نہیں بننا چاہیے، ڈنیز براؤن

آٹھ سال آنیہ یوکرین کے شہر بوزوا میں اپنے تباہ حال سکول کے ملبے پر کھڑی ہیں۔
© UNICEF/Olena Hrom
آٹھ سال آنیہ یوکرین کے شہر بوزوا میں اپنے تباہ حال سکول کے ملبے پر کھڑی ہیں۔

جنگ کو بچوں کے لیے معمول زندگی نہیں بننا چاہیے، ڈنیز براؤن

امن اور سلامتی

یوکرین کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی رابطہ کار ڈنیز براؤن نے کہا ہے کہ ملک پر روس کے حملے سے بچوں کو شدید جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی نقصان ہو رہا ہے اور اس صورتحال کو دنیا میں کہیں بھی معمول نہیں بننا چاہیے۔

جارحیت کا شکار معصوم بچوں کے عالمی دن پر ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں محاذ جنگ کے قریب رہنے والے بچوں کو بمباری سے بچنے کے لیے تقریباً سات ماہ کا عرصہ زیرزمین بنکروں میں گزارنا پڑا ہے۔ ہر جگہ بچوں کو جنگوں سے تحفط دینا ضروری ہے۔ جنگ معمول کی بات نہیں اور ایسے حالات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

Tweet URL

تلخ سچائی

ڈنیز براؤن نے بتایا ہے کہ اس جنگ میں یوکرین کے 600 سے زیادہ بچے ہلاک اور 1,420 زخمی ہو چکے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ یہ ہولناک سچائی ہے اور دنیا کو اس کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ وہ ہلاکتیں ہیں جن کی اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مصدقہ معلومات کے حصول کے لیے روس کے زیرقبضہ یوکرینی علاقوں تک رسائی کے لیے متعدد درخواستیں قابض حکام نے مسترد کر دی ہیں۔ 

تلخ حقیقت یہ ہےکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور شہری تنصیبات پر بھی حملے کیے جا رہے ہں۔ گزشتہ ہفتے ہی خارکیئو میں چند منٹ کے وقفوں سے ایک خریداری مرکز، دفتر کی عمارت اور پارک کو نشانہ بنایا گیا۔

بچوں کے خواب

ڈنیز براؤن نے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں قیام کے دوران بہت سے پیارے، خوش و خرم اور مسکراتے بچوں سے ملی ہیں۔ روس کا بڑے پیمانے پر حملہ شروع ہونے سے دو سال کے بعد بھی ان بچوں کے دل میں محبت اور تحفظ کا احساس برقرار ہے۔

انہوں نے گزشتہ کرسمس کے موقع پر خارکیئو کے دیہی علاقے ہروزا کے اپنے دورے کا تذکرہ کیا جہاں انہوں نے مقامی بچوں میں چاکلیٹ اور کینڈی تقسیم کی تھیں۔ ان بچوں نے انہیں بتایا کہ وہ ڈاکٹر یا استاد بننا چاہتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ ان بچوں سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتی ہیں تو ان کے دل میں ایسے بچوں کا خیال آتا ہے جنہیں وہ کبھی نہیں مل پائیں گی۔ اسی گاؤں میں ایک آٹھ سالہ بچہ 5 اکتوبر 2023 کو روس کے ایک میزائل حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ بہت سے دیگر بچے بھی سوتے میں یا کھیلتے ہوئے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

حقوق کی پامالی

رابطہ کار کا کہنا ہے کہ روس نے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2023 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے روس کو یوکرین کے بچوں کو ہلاک اور معذور کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ 

ڈنیز براؤن نے جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ادارہ بچوں کے حقوق کی پامالیوں کی تفصیل جمع کرنے کے ساتھ انہیں نگہداشت فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اس سے یوکرین کے لوگوں کی تکالیف میں تو کمی نہیں آئے گی اور نہ ہی ختم ہو جانے والی زندگیاں واپس آ سکتی ہیں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے اس کی تفصیل اکٹھی کرنا ضروری ہے تاکہ انصاف قائم کیا جا سکے۔