انسانی کہانیاں عالمی تناظر

صحت کے بین الاقوامی ضوابط میں ترامیم پر تاریخی اتفاق رائے

وبائیں قومی سرحدوں سے ماورا ہوتی ہیں اور ان کے مقابلے کی تیاری ایک اجتماعی کوشش ہے۔
© Unsplash/Shengpengpeng Cai
وبائیں قومی سرحدوں سے ماورا ہوتی ہیں اور ان کے مقابلے کی تیاری ایک اجتماعی کوشش ہے۔

صحت کے بین الاقوامی ضوابط میں ترامیم پر تاریخی اتفاق رائے

صحت

ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے بین الاقوامی طبی ضوابط (آئی ایچ آر) کو بہتر بنانے کے لیے ان میں ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ وباؤں کی روک تھام کے معاہدے کو ایک سال میں حتمی صورت دے دی جائے گی۔

ان اقدامات کا مقصد تمام ممالک میں تمام لوگوں کی صحت کو مستقبل کی بیماریوں اور وباؤں سے تحفظ دینے کے لیے جامع اور مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔ یہ فیصلے لیتے وقت کووڈ۔19 وبا سمیت متعدد عالمگیر ہنگامی طبی حالات سے حاصل کردہ اسباق کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

Tweet URL

ان فیصلوں سے وباؤں سمیت صحت عامہ کو لاحق ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، ایسے حالات کی نگرانی اور ان کے خلاف اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وباؤں سے پیشگی تحفظ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ یہ فیصلے رکن ممالک کی جانب سے اپنے لوگوں اور دنیا کو صحت عامہ کے ہنگامی حالات اور مستقبل کی وباؤں سے لاحق مشترکہ خطرات سے تحفظ دینے کی خواہش کا اظہار ہیں۔ 

'آئی ایچ آر' میں ترامیم سے مستقبل میں بیماریوں اور وباؤں کی نشاندہی کے لیے ممالک کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ اس طرح وہ اپنے طبی نظام کی استعداد کو بہتر بنا سکیں گے اور بیماریوں کی نگرانی، ان کے بارے میں معلومات اور ان کے خلاف اقدامات کے تبادلے کے لیے ایک دوسرے کےساتھ رابطے میں رہیں گے۔ 

ان اقدامات کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ طبی خطرات قومی سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں اور ان کے مقابلے کی تیاری ایک اجتماعی کوشش ہے۔وباؤں کے خلاف معاہدے کو ایک سال میں حتمی صورت دینے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممالک کو اس کی کس قدر اشد اور فوری ضرورت ہے کیونکہ آئندہ وبا کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ 

'آئی ایچ آر' کو بہتر بنانے کے فیصلے سے وباؤں کے خلاف معاہدے کی تکمیل کی جانب پیش رفت میں بہتری آئے گی۔ جب اس معاہدے کو حتمی صورت دے دی جائے گی تو مستقبل میں صحت، معاشروں اور معیشتوں کو ویسی تباہی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو انہوں نے کووڈ۔19 کے دوران دیکھی تھی۔

نئی ترامیم

بین الاقوامی طبی ضوابط میں نئی ترامیم کے تحت:

  • وبائی ہنگامی حالات کی تعریف متعین کی جانا ہے تاکہ ایسے ہنگامی واقعات کی صورت میں مزید موثر بین الااقوامی تعاون ممکن بنایا جا سکے جو وبا کی صورت اختیار کر سکتے ہوں یا کر چکے ہوں۔ 
  • طبی سازوسامان اور مالیات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے یکجہتی و مساوات کا عزم کیا گیا ہے۔ اس میں ایک مربوط مالیاتی طریقہ کار کا قیام بھی شامل ہے جس سے ترقی پذیر ممالک کی طبی ضروریات اور ترجیحات سے مساوی طور پر نمٹنے کے لیے درکار مالی وسائل کی نشاندہی ہو سکے اور ان تک رسائی مل سکے۔ یہ وسائل بنیادی طبی صلاحیتوں کی تیاری، انہیں مضبوط بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے بھی درکار ہو سکتے ہیں اور دیگر ہنگامی وباؤں کی روک تھام، ان سے نمٹنے کی تیاری اور ان کے خلاف اقدامات سے متعلق صلاحیتوں کے حصول کی خاطر بھی ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ 
  • ترمیم شدہ ضوابط پر موثر طور سے عملدرآمد میں سہولت دینے کے لیے ریاستی فریقین کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی طبی ضوابط پر موثر طور سے عملدرآمد کے لیے رکن ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دے گی۔
  • ممالک کے اندر اور ان کے مابین ان ضوابط پر عملدرآمد کے لیے ارتباط کو بہتر بنانے کی غرض سے قومی سطح پر 'آئی ایچ آر' اتھارٹی کا قیام۔