جنگ ہو یا امن دائیاں خدمات سرانجام دیتی رہتی ہیں
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دائیوں کی شدید کمی پر قابو پا کر سالانہ لاکھوں زندگیوں کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔
ہر سال زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث 287,000 خواتین اور 24 لاکھ نومولود بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ 22 لاکھ بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی بیشتر اموات حمل اور زچگی کے دوران ماؤں کو بہتر طبی نگہداشت میسر نہ آنے کے سبب ہوتی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ضرورت کے مطابق مہارت یافتہ دائیاں (مڈ وائف) دستیاب نہیں ہیں۔
'یو این ایف پی اے' کا کہنا ہے کہ دائیوں کی کمی کو پورا کر کے 2035 تک سالانہ 43 لاکھ ماؤں اور نومولود بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
زچہ کا بنیادی سہارا
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیا کینم نے کہا ہے کہ ہر سال لاکھوں زندگیوں کا دارومدار دائیوں کی مہارت اور ان کی فراہم کردہ طبی نگہداشت پر ہوتا ہے۔ تاہم زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہر دو منٹ میں ایک خاتون یا لڑکی کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
بحرانوں کے دوران عام طور پر دائیاں ہی زچہ خواتین کا سب سے بڑا سہارا ہوتی ہیں۔ دشوار گزار علاقوں میں ان کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ بچے کی پیدائش کو روکا نہیں جا سکتا خواہ کوئی حاملہ خاتون اپنے گھر میں رہتی ہو یا جنگ اور کسی قدرتی آفت کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہو۔
زچگی میں مدد دینے کے علاوہ جنسی و تولیدی صحت کی 90 فیصد خدمات انہی کے ہاتھوں انجام پاتی ہیں۔
جرات مندانہ کردار
دنیا بھر میں مسلح تنازعات میں اضافے کے ساتھ دائیوں کے کام کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ انہیں زچگی میں دیکھ بھال کے ساتھ مشکلات کا شکار خواتین اور بچوں کو نفسیاتی مدد بھی مہیا کرنا ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس دن پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ کے الاماراتی ہسپتال میں نرسنگ کے شعبے کی سربراہ ثمر ناظمی موافی کو دکھایا گیا ہے۔ انہیں ہنگامی طبی امداد کے شعبے میں روزانہ تقریباً 500 خواتین کو دیکھنا پڑتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود وہ ان مریضوں کا پوری طرح خیال رکھتی ہیں۔
ثمر کا کہنا ہےکہ انہوں نے ہر طرح کے حالات میں مسکرانا سیکھا ہے اور اپنی مسکراہٹ کے ذریعے مریضوں کو حوصلہ دینے کی کوشش کرتی ہیں۔
ساڑھے تین لاکھ دائیوں کی تربیت
دنیا بھر میں مزید 10 لاکھ دائیوں کی ضرورت ہے۔ کام کے مشکل حالات، صنفی امتیاز کے باعث مردوں کے مقابلے میں کم اجرتوں اور ہراسانی کے باعث بہت سی خواتین یہ پیشہ اختیار کرنے سے گریز کرتی ہیں۔
'یو این ایف پی اے' نے کہا ہے کہ زچہ اور بچہ کی صحت کو تحفظ دینے کے لیے تمام خواتین کے لیے مہارت یافتہ دائیوں تک آسان رسائی ممکن بنانا ضروری ہے۔
ادارے نے دنیا بھر کے ممالک میں 350,000 سے زیادہ دائیوں کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق تربیت فراہم کی ہے تاکہ وہ مریضوں کی مزید بہتر نگہداشت کر سکیں۔