انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: یو این اداروں کو ڈارفر میں قحط برپا ہونے کا خدشہ

اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور خاندان وسطی ڈارفر کے شہر زلینجی میں پناہ گزینوں کے ایک عارضی کیمپ کے پاس اکٹھے ہیں۔
© UNICEF/Antony Spalton
اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور خاندان وسطی ڈارفر کے شہر زلینجی میں پناہ گزینوں کے ایک عارضی کیمپ کے پاس اکٹھے ہیں۔

سوڈان: یو این اداروں کو ڈارفر میں قحط برپا ہونے کا خدشہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے علاقے ڈارفر میں بھوک پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے جہاں شمالی شہر الفاشر میں متحارب فریقین کے مابین بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے باعث امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں ملک کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کے متحارب عسکری دھڑے (آر ایس ایف) کے مابین لڑائی چھڑنے کے بعد ملک کو تباہ کن انسانی بحران درپیش ہے۔ ڈھائی کروڑ افراد یا ملک کی نصف آبادی کو امداد کی اشد ضرورت ہے جن میں ایک کروڑ 77 لاکھ لوگ شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔

Tweet URL

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے اسے غیرمعمولی درجے کا بحران قرار دیا ہے جسے غیرمحفوظ آبادیوں تک امداد کی عدم رسائی نے اور بھی گمبھیر بنا دیا ہے۔ ڈارفر میں حالات خاص طور پر سنگین ہیں جہاں متحارب دھڑوں اور ان کی حامی ملیشیاؤں کے مابین لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ 

شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر کے گردونواح میں جاری لڑائی کے باعث ہمسایہ ملک چاڈ سے آنے والے امدادی قافلوں کی ضرورت مند لوگوں تک رسائی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ 

مایوس کن حالات

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) میں مشرقی افریقہ کے ریجنل ڈائریکٹر مائیکل ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ سوڈان میں جنگ سے متاثرہ آبادیوں میں امداد پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ان علاقوں تک بلاروک و ٹوک رسائی درکار ہے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگ گھاس اور مونگ پھلی کے چھلکے کھانے پر مجبور ہیں۔ اگر انہیں فوری طور پر خوراک نہ پہنچائی گئی تو بڑے پیمانے پر بھوک پھیلنے اور اموات کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈارفر میں چاڈ کے ساتھ آدرے کے سرحدی راستے اور پورٹ سوڈان سے امداد کی فراہمی ممکن بنانا بہت ضروری ہے۔

بچوں کی ہلاکتیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے بتایا ہے کہ شمالی ڈارفر میں لڑائی چھڑنے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ درجن سے زیادہ دیہات پر حالیہ حملوں کے نتیجے میں تشدد، جنسی زیادتی اور لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی ہولناک اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ 

مسلح گروہوں کی جانب سے الفاشر شہر کے محاصرے اور اہم سڑکوں پر نقل و حرکت روکے جانے سے لوگوں کے لیے جنگ زدہ علاقے سے نقل مکانی ممکن نہیں رہی۔ 

کیتھرین رسل نے ان حالات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جنگ کے باعث قحط پھیلنے اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کی اموات کا خدشہ ہے۔

انہوں نے متحارب فریقین سے کشیدگی میں کمی لانے، شہریوں بشمول بیماروں اور زخمیوں کو محفوظ نقل و حرکت کی اجازت دینے کے لیے کہا ہے۔

عالمی ادارہ خوارک کی طرف سے ڈارفر میں ہنگامی بنیادوں پر خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔
© WFP/World Relief
عالمی ادارہ خوارک کی طرف سے ڈارفر میں ہنگامی بنیادوں پر خوراک تقسیم کی جا رہی ہے۔

کشیدگی ختم کرانے کی کوششیں

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رمتان لامامرا کشیدگی میں کمی لانے کے لیے فریقین کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ لامامرا نے 'آر ایس ایف' اور سوڈان کی حکومت سے الفاشر میں جنگ سے گریز کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شہر پر حملے سے عام لوگوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ 

لامامرا اس تنازع کو حل کرانے کے لیے اپریل میں پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے بعد چاڈ، ایتھوپیا اور اریٹریا کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے افریقن یونین اور علاقائی رہنماؤں سے مسئلے کے ممکنہ حل پر بات چیت کی ہے۔

امدادی رسائی کا مسئلہ

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ اس وقت غیرمحفوظ لوگوں تک امداد کی رسائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ 

ادارے کی ترجمان اولگا ساراڈو مور نے بتایا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ادارے کو پہلی مرتبہ ام درمان شہر میں رسائی ملی ہے جہاں اس وقت 12 ہزار پناہ گزین اور 54 ہزار بے گھر لوگ موجود ہیں۔ ان میں سوڈانی شہریوں کے علاوہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سوڈان میں مقیم مہاجرین بھی شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بعد ان لوگوں کو خوراک کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں بچوں میں جسمانی کمزوری کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

بچوں کو سکولوں یا کھیلوں کی جگہوں تک رسائی نہیں ہے اور جنگ نے ان کے دل و دماغ پر خوف طاری کر رکھا ہے۔ بے گھر لوگوں کے لیے مناسب پناہ گاہیں بھی دستیاب نہیں ہیں اور بہت سے لوگوں نے ویران سکولوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ 

اگرچہ شہر میں دو ہسپتال کھلے ہیں لیکن ان میں ضرورت کے مطابق ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ حاملہ خواتین کو قبل از پیدائش نگہداشت میسر نہیں ہے۔ لوگوں کو اپنے تحفظ کے حوالے سے بہت سے خدشات درپیش ہیں اور علاقے میں جنسی تشدد بھی بڑھ رہا ہے۔

ڈارفر میں حملوں اور لوٹ مار کے نتیجے میں یہ زچہ و بچہ مرکز بھی تباہ ہو گیا ہے اور عملہ اب گھر گھر جا کر خدمات فراہم کرنے پر مجبور ہے۔
© UNFPA Sudan
ڈارفر میں حملوں اور لوٹ مار کے نتیجے میں یہ زچہ و بچہ مرکز بھی تباہ ہو گیا ہے اور عملہ اب گھر گھر جا کر خدمات فراہم کرنے پر مجبور ہے۔

اَن پھٹا گولہ بارود

جنگ کے نتیجے میں سوڈان کے بہت سے شہروں اور قصبات میں اَن پھٹا گولہ بارود جمع ہو چکا ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کی 'مائن ایکشن سروس' (یو این ایم اے ایس) کے سربراہ محمد صادق راشد نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس گولہ بارود سے شہریوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔