غزہ میں دس ہزار لاشیں ملبے تلے دفن، یو این دفتر برائے امدادی امور
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق غزہ میں 10 ہزار سے زیادہ لوگ ملبے تلے دب کر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ فضاء، زمین اور سمندر سے اسرائیل کی شدید اور متواتر بمباری میں پوری کی پوری آبادیاں تباہ اور سیکڑوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔
اوچا نے فلسطینی شہری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشینری اور عملے کی کمی کے باعث ملبے سے لاشوں کو نکالنا بہت مشکل کام ہے۔ موجودہ آلات کو استعمال کرتے ہوئے اس کام میں تین سال لگ سکتے ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لاشوں کے متعفن ہونے کا عمل بھی تیز ہو جائے گا جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم
غزہ میں مجموعی طور پر تقریباً 37 ملین ٹن ملبہ موجود ہے جس میں تقریباً 8 لاکھ ٹن ایسبسٹاس اور دیگر زہریلے اجزا بھی شامل ہیں۔
گزشتہ مہینے جنوبی شہر خان یونس سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد 10 اپریل کو اقوام متحدہ کی جائزہ ٹیم نے اطلاع دی تھی کہ علاقے میں جا بجا اَن پھٹا گولہ بارود بکھرا ہے۔ مرکزی چوراہوں اور سکولوں میں ایسے بم بھی پائے گئے ہیں جن کا وزن 1,000 پاؤنڈ تک تھا۔
اس گولہ بارود کو صاف کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیرقیادت کوششیں جاری ہیں۔ اس ضمن میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے (انرا) کے مراکز کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے اور ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جہاں بڑی مقدار میں اَن پھٹا گولہ بارود یا بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے مائن ایکشن سروس کی جانب سے سوشل میڈیا، موبائل فون پر تحریری پیغامات اور امدادی سامان کے ساتھ دیے جانے والے پمفلٹ کے ذریعے غزہ کے 12 لاکھ لوگوں کو اس گولہ بارود سے بچنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی 'مائن ایکشن سروس' (یو این ایم اے ایس) کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ غزہ بھر میں تقریباً 7,500 ٹن اَن پھٹا گولہ بارود بکھرا ہے جسے مکمل طور پر صاف کرنے میں 14 برس لگ سکتے ہیں۔ ادارے نے شہریوں اور امدادی اہلکاروں کو اس سے تحفظ دینے کی خاطر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کی تباہ کن باقیات کی صفائی میں مدد دے۔
6 لاکھ پناہ گزین بچے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات ماہ سے ہولناکیوں کا سامنا کرنے والے لوگوں کا مہیب خواب اب ختم ہونا چاہیے۔
200 یوم سے زیادہ عرصہ سے جاری جنگ میں ہزاروں بچے ہلاک، زخمی اور معذور ہو چکے ہیں۔ رفح پر اسرائیل کے کسی بڑے حملے کی صورت میں وسیع پیمانے پر انسانی نقصان کا خدشہ ہے۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں انہوں نے بتایا ہے کہ غزہ کے تقریباً تمام بچوں نے جنوبی شہر رفح میں پناہ لے رکھی ہے جن کی تعداد تقریباً چھ لاکھ ہے۔ یہ بچے زخمی، بیمار اور غذائی کمی کا شکار ہیں۔
بڑھتی ہوئی ہلاکتیں
'اوچا' نے بتایا ہے کہ 29 اپریل اور یکم مئی کے درمیان غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 80 فلسطینی ہلاک اور 118 زخمی ہوئے۔
29 اپریل کو رفح کے مغربی علاقے تل السطان میں ایک گھر پر فضائی حملے میں دو خواتین اور دو لڑکیاں ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ غزہ کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد علاقے میں مجموعی طور پر 34,560 فلسطینی ہلاک اور 77,765 زخمی ہو چکے ہیں۔
28 اپریل اور یکم مئی کے درمیان غزہ میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے یکم مئی تک علاقے میں اس کے ہلاک ہونے والی فوجیوں کی تعداد 262 ہو چکی تھی جبکہ 1,602 زخمی ہوئے ہیں۔