بنگلہ دیش میں پناہ لیے روہنگیاؤں کے خوراک الاؤنس میں اضافہ
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار کے کیمپوں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے ماہانہ خوراک الاؤنس کو دس امریکی ڈالر سے بڑھا کر گیارہ ڈالر کر دیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ اس کی کوشش ہوگی کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا فی کس ماہانہ خوراک الاؤنس اگست تک ساڑھے بارہ امریکی ڈالر کی مطلوبہ سطح تک پہنچ جائے۔
امداد میں مالی اضافے کے علاوہ ادارے نے اس سال کے آغاز سے امدادی خوراک میں مقامی طور پر خریدے گئے اضافی غذائیت والے چاول بھی شامل کر دیے تھے۔ یہ چاول عام چاولوں کے مقابلے میں بہتر غذائیت فراہم کرتے ہیں جن میں ضروری وٹامن اور مائیکرو نیوٹرینٹ شامل ہیں۔
خوراک کی یہ بڑھی ہوئی امداد اب کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کی سو فیصد آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے۔
مالی بحران اور غذائیت
گزشتہ سال ڈبلیو ایف پی کو مالی امداد کے ایک غیر معمولی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں راشن بندی کرتے ہوئے خوراک کی فی کس ماہانہ امداد بارہ امریکی ڈالر سے کم کر کے آٹھ ڈالر کر دی گئی تھی۔ اس کٹوتی کے نتیجے میں روہنگیا پناہ گزینوں کے پاس اپنی روزانہ غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف25 سینٹ فی کس دستیاب ہوتے تھے۔
راشن بندی کی وجہ سے گزشتہ سال نومبر میں پناہ گزینوں کی 90 فیصد آبادی کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں تھی، جبکہ جون میں یہ شرح 80 فیصد تھی۔ بچے خوراک کی اس کمی سے زیادہ متاثر ہو رہے تھے۔
اس سال کے آغاز میں خوراک کی اگرچہ فی کس ماہانہ امدادی رقم 8 امریکی ڈالر سے بڑھا کر 10 ڈالر کر دی گئی تھی، لیکن یہ اضافہ کاکس بازار میں مقیم پناہ گزینوں کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔
امداد اور ترجیحات
بنگلہ دیش میں ڈبلیو ایف پی کے ڈائریکٹر ڈوم سکالپیلی کا کہنا ہے کہ راشن کی مطلوبہ مقدار تک جلد از جلد پہنچنا ضروری ہے، اس سے نہ صرف لوگوں کی غذائی ضروریات پوری ہونگی بلکہ صحت، تعلیم، اور پناہ گاہوں کے تحفظ جیسی دوسری ترجیحات پر بوجھ بھی کم ہوگا۔
مہاجر کیمپوں کے حالات سے تنگ آ کر سال 2023 میں تقریباً 4,500 روہنگیاؤں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سمندری راستوں سے فرار کی کوشش کی۔ ان میں سے 569 افراد یا راستے میں ہلاک ہوگئے یا ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد کی یہ تعداد گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
کیمپوں کے اندر سکیورٹی کی صورتحال بھی ابتر ہو چکی ہے۔ روزانہ پرتشدد واقعات، مبینہ اغوا اور فوجی گروہوں کی طرف سے جبری بھرتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
مصیبتوں کا انبار
حال ہی میں 24 مئی کو لگنے والی آگ نے کیمپوں کے ایک حصے میں تقریباً 4000 افراد کو بے گھر کر دیا تھا۔ ڈبلیو ایف پی نے متاثرہ گھرانوں کو گرم کھانا اور توانائی سے بھرپور بسکٹ فراہم کیے تھے۔ دو دن بعد ہی سمندری طوفان ریمل کاکس بازار سمیت جنوبی بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا، جس میں خوش قسمتی سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ اب مون سون کی آمد آمد ہے جس کا سامنا کرنے کے لیے ڈبلیو ایف پی اور اس کے شراکت دار چوکس ہیں۔
ڈوم سکالپیلی نے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا بحران کو اپنی حکومتوں کے سیاسی ایجنڈوں میں سرفہرست رکھنا دوستی اور انسانیت کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں 10 لاکھ روہنگیا کے لیے کسی دیرپا حل کی تلاش تک انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنا اہم ہے۔