سوڈان: قحط ٹالنے کے لیے امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں امدادی اداروں کے کام میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو ملک میں لاکھوں لوگوں کو قحط کے خطرے سے بچایا نہیں جا سکے گا۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ملک کے بیشتر حصوں میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے جس کے باعث مزید لوگ ہمسایہ ممالک میں ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے۔ اگر اس خطرے کو روکا نہ گیا تو بڑی تعداد میں بچے بیماریوں اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ لڑکیوں اور خواتین کو کہیں بڑے مصائب اور خطرات کا سامنا ہو گا۔
دنیا بھر سے 19 امدادی اداروں کے سربراہوں نے ایک مشترکہ انتباہ میں کہا ہے کہ سوڈان میں انسانی امداد پہنچانے کے کام میں بڑے پیمانے پر رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جس سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
بھوک اور غذائی قلت
امدادی اداروں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے باوجود امدادی کارکنوں کو اپنے کام میں 'منظم' رکاوٹوں کا سامنا ہے اور متحارب فریقین امدادی کارروائیاں انجام دینے کی اجازت نہیں دے رہے۔
'اوچا' کے ترجمان جینز لائرکے نے بتایا ہے کہ امداد کی فراہمی کے حالات نہایت خراب اور خطرناک ہیں۔ امدادی کارکنوں کو ہلاک، زخمی اور ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی سامان لوٹنے کے واقعات عام ہیں۔فروری میں چاڈ کے ساتھ ادرے کا سرحدی راستہ بند ہونے سے سوڈان کی شورش زدہ ریاست ڈارفر میں پہنچنے والی انسانی امداد کی مقدار بہت کم رہ گئی ہے۔
جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ بھوک کا شکار ہیں جبکہ 36 لاکھ بچوں کو پہلے ہی غذائی قلت کا سامنا ہے۔ مناسب خوراک لینے والے عام بچوں کے مقابلے میں ان کی ہلاکت کے امکانات 10 تا 11 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
ڈارفر میں امداد کی فراہمی
گزشتہ ہفتے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے ٹرک چاڈ سے انسانی امداد لے کر ٹائن کے سرحدی راستے سے سوڈان آئے ہیں۔ اس میں ڈارفر کے 116,000 لوگوں کے لیے تقریباً 1,200 میٹرک ٹن خوراک شامل تھی۔
سوڈان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی ترجمان لینی کنزلی نے تصدیق کی ہے کہ امدادی کارواں میں شامل متعدد ٹرک وسطی ڈارفر (امشالیہ اور رونغاتس) میں پہنچ گئے ہیں جبکہ دیگر اپنی منزل کی جانب رواں ہیں۔
جینز لائرکے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر میں سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین لڑائی میں شدت آ گئی ہے جہاں تقریباً آٹھ لاکھ شہریوں کو بڑے پیمانے پر حملے کا فوری خطرہ درپیش ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ وسط دسمبر کے بعد دارالحکومت خرطوم، ڈارفر، الجزائر اور کردفان میں متحارب فریقین کے زیرقبضہ علاقوں کے آر پار امدادی قافلوں کی نقل و حرکت ختم ہو گئی ہے۔ رواں سال مارچ اور اپریل میں ان علاقوں میں مقیم تقریباً 860,000 افراد انسانی امداد سے محروم رہے۔
الفاشر میں شہریوں پر حملے
سوڈان میں اقوام متحدہ کی امدادی سربراہ اینکویتا سلامی نے خبردار کیا ہے کہ الفاشر میں شہریوں پر چاروں جانب سے حملہ ہو رہا ہے۔ طبی سہولیات، پناہ گزینوں کے کیمپ اور اہم شہری تنصیبات حملوں کی زد میں ہیں جبکہ شہر کے بیشتر حصوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
امدادی اداروں کے سربراہوں نے متحارب فریقین سے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دیں، انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں اور ملک بھر میں لڑائی بند کر دیں۔
انہوں نے عطیہ دہندگان پر زور دیا ہےکہ وہ 15 اپریل کو پیرس میں سوڈان اور اس کے ہمسایوں کے لیے ہونے والی امدادی کانفرنس میں کیے گئے وعدے پورے کرتے ہوئے فوری طور پر مالی وسائل مہیا کریں۔رواں سال سوڈان کے لیے 2.7 اب ڈالر امداد کی اپیل کی گئی ہے لیکن اب تک اس میں صرف 16 فیصد وسائل ہی مہیا ہو سکے ہیں۔