انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اے آئی کی انقلابی صلاحتیں پائیدار ترقی میں کارآمد، گوتیرش

کانفرنس میں آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔مارٹن کا استقبال فٹ بال کھیلتے روبوٹوں نے کیا۔
UN News/Anton Uspensky
کانفرنس میں آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔مارٹن کا استقبال فٹ بال کھیلتے روبوٹوں نے کیا۔

اے آئی کی انقلابی صلاحتیں پائیدار ترقی میں کارآمد، گوتیرش

پائیدار ترقی کے اہداف

بین الااقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کے زیراہتمام مصنوعی ذہانت کے مفید استعمال پر سالانہ کانفرنس جنیوا میں شروع ہو گئی ہے جس میں دنیا بھر سے ہزاروں شرکا اس ٹیکنالوجی سے وابستہ امیدوں اور خدشات پر گفت و شنید کر رہے ہیں۔

دو روزہ کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسانوں کی بات چیت اور تعامل کے متعدد پہلووں پر تبادلہ خیال ہو گا۔ علاوہ ازیں مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات پر کئی طرح کے نقطہ ہائے نظر بھی پیش کیے جائیں گے اور شرکا مصنوعی ذہانت سے مل کر اس کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ لگائیں گے۔

Tweet URL

کانفرنس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس، دماغ سے کنٹرول کیے جانے والے آلات، کئی طرح کے کاموں کے لیے تخلیقی مصنوعی ذہانت پر مبنی طریقہ ہائے کار اور مصنوعی ذہانت کے عالمگیر نظام میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی مشینیں توجہ کا مرکز ہیں۔

یہ کانفرنس اس قدر مقبول ہے کہ اس میں آنے والے لوگوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس مرتبہ بھی ہزاروں لوگ کئی سو میٹر طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر کانفرنس سنٹر میں داخلے کا انتظار کرتے دکھائی دیے۔

پائیدار ترقی کی ضمانت

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ویڈیو پیغام کے ذریعے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی انقلابی صلاحیتوں سے کام لے کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی دہری فطرت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس سے وابستہ بے پایاں امکانات اور اس کے ذمہ دارانہ و مشمولہ انتظام کی ضرورت کا تذکرہ بھی کیا۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت ہماری دنیا اور زندگیوں کو تبدیل کر رہی ہے اور اس سے پائیدار ترقی کے حصول کی سمت میں اقدامات کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔ 

بھلائی کی ٹیکنالوجی

آئی ٹی یو' کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان۔مارٹن نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے انقلابی امکانات کو واضح کیا اور کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے مشمولہ و محفوظ انتظام کی ضرورت ہے۔ 

اس موقع پر انہوں نے مصنوعی ذہانت کو انسانی بھلائی کے لیے استعمال کیے جانے کی چند نمایاں مثالیں بھی پیش کیں۔ ان میں پاکستانی انجینئروں کا شروع کردہ اقدام 'بائیونکس' بھی شامل ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کے ذریعے کام کرنے والے مصنوعی جسمانی اعضا تیار کیے جاتے ہیں۔ 

انہوں نے امریکہ میں خواتین کے زیرقیادت شروع کیے گئے اقدام 'الٹرا ساؤنڈ مصنوعی ذہانت' کا تعارف بھی کرایا جس کے ذریعے خواتین کو قبل از زچگی طبی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

کانفرنس میں اے آئی کی پاکستانی کمپنی بائیونکس جو دماغ کے ذریعے کنٹرول ہونے والے مصنوعی اعضاء پر کام کر رہی ہے۔
UN News/Anton Uspensky
کانفرنس میں اے آئی کی پاکستانی کمپنی بائیونکس جو دماغ کے ذریعے کنٹرول ہونے والے مصنوعی اعضاء پر کام کر رہی ہے۔

سستے ترین مصنوعی اعضاء

بائیونکس کے بانی اور سی وی او (چیف ویژنری آفیسر) انس نیاز نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد جسمانی طور پر معذور افراد بشمول بچوں کو جدید مصنوعی اعضا سستے داموں فراہم کرنا ہے۔ سکیننگ کے لیے سمارٹ فون کے استعمال، دماغ سے کنٹرول ہونے والی ٹیکنالوجی اور باآسانی جسم کے ساتھ جوڑے جانے والے مصنوعی اعضا کی بدولت ان پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس طرح ان کی کمپنی کے تیار کردہ یہ اعضا دنیا میں سب سے سستے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جس معذور فرد کو کسی مصنوعی عضو کی ضرورت ہو تو وہ اس کا ناپ موبائل فون کے ذریعے کمپنی کو بھیج سکتا ہے اور کمپنی مطلوبہ مصنوعی عضو اس کے گھر پہنچا دے گی۔ یہ اعضا واٹر پروف ہیں اور نم دار ماحول میں رہنے والے لوگ انہیں کسی بھی کام کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جیسا کہ بچے ان کے ذریعے لکھنے میں بھی مدد لے رہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بائیونکس ایسے معذور افراد کو مخیر لوگوں اور اداروں کی تلاش میں بھی مدد دیتا ہے جنہیں ان اعضا کی ضرورت ہے لیکن وہ انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔