انسانی کہانیاں عالمی تناظر

چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مالی وسائل درکار

سوڈان سے چاڈ پہنچنے والے لوگ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
© UNHCR/Ying Hu
سوڈان سے چاڈ پہنچنے والے لوگ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔

چاڈ میں سوڈانی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مالی وسائل درکار

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے چاڈ میں نقل مکانی کرنے والے 185,000 سوڈانی شہریوں کی مدد کے لیے اپنے امدادی شراکت داروں سے مالی وسائل مہیا کرنے کو کہا ہے۔

چاڈ میں 'یو این ایچ سی آر' کی نمائندہ لاؤرا لو کاسترو نے کہا ہے کہ سوڈان سے نقل مکانی کرنے والے لوگ خطرناک سرحدی راستے عبور کر کے چاڈ پہنچ رہے ہیں۔ ایسے بیشتر پناہ گزینوں کی ابتدائی منزل چاڈ میں ادرے کا سرحدی قصبہ ہے جہاں تک سفر آسان نہیں۔ 

حالیہ دنوں اس علاقے میں بارشیں بھی شروع ہو گئی ہیں جس سے ہزاروں سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے امدادی اقدامات میں اضافہ کرنا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سرحد سے پرے محفوظ مقامات پر پہنچانا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے 'یو این ایچ سی آر' اور اس کے شراکت دار ایک نئی بستی تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اس میں 50 ہزار پناہ گزینوں کو بسانے کے لیے انہیں ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ 

بدحال پناہ گزین

'یو این ایچ سی آر' نے بتایا ہے کہ سوڈان میں جاری لڑائی کے باعث ایک سال میں تقریباً چھ لاکھ شہری نقل مکانی کر کے چاڈ آ چکے ہیں۔ ایسے بیشتر خاندان اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور انہیں اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے بھی انسانی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ابتدا میں ان لوگوں کو سرحد کے ساتھ گنجان خیمہ بستیوں میں ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم اب یہ انتظام کافی نہیں ہے۔ نئے آنے والے پناہ گزینوں میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے جو بدحالی کے عالم میں چاڈ پہنچ رہے ہیں۔ ان لوگوں کو پناہ، خوراک، پانی، صحت و صفائی اور طبی خدمات کے علاوہ جسمانی تحفظ اور ذہنی صحت و نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

63 کروڑ ڈالر کی ضرورت

'یو این ایچ سی آر' اور اس کے شراکت دار پناہ گزینوں کے لیے پانچ نئی بستیاں بھی تعمیر کر رہے ہیں جبکہ موجودہ دس بستیوں کو وسعت دی جا رہی ہے جہاں اس وقت 336,000 سے زیادہ سوڈانی پناہ گزین موجود ہیں۔ 

ادارے کو نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کے لیے ہنگامی مدد مہیا کرنے کے کام میں حکومت کا تعاون بھی حاصل ہے۔ تاہم ان لوگوں کو مدد پہنچانے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے جن کی فی الوقت شدید قلت ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے آنے والوں کی مدد کے لیے 630.2 ملین ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ اب تک صرف چھ فیصد وسائل ہی مہیا ہو پائے ہیں۔ 

لاؤرا کاسترو نے عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان لوگوں کی فیاضانہ مدد کریں تاکہ انسانی زندگیوں کو تحفظ دیا جا سکے۔