سڈز 4 کانفرنس: قرضوں میں جکڑے ممالک کو وسائل درکار، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک قرض کے بوجھ تلے دبے ہیں جنہیں پائیدار ترقی کے لیے درکار بین الاقوامی مالیاتی وسائل تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح بڑھنے کے نتیجے میں ان ممالک کا وجود خطرے میں ہے جبکہ اس تبدیلی کو لانے میں ان کا سرے سے کوئی کردار ہی نہیں۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس یا سڈز) کی چوتھی کانفرنس کے دوسرے روز اپنے خطاب میں کہی۔ یہ چار روزہ کانفرنس غرب الہند کے ملک اینٹیگوا اینڈ باربوڈا میں منعقد ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کووڈ، یوکرین پر روس کے حملے اور موسمیاتی تباہی نے سڈز کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان ممالک کی معیشت کا دارومدار عموماً سیاحت پر ہوتا ہے اور ان تینوں بحرانوں نے معیشت کے جن شعبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ان میں سیاحت بھی شامل ہے۔
یہ ممالک اپنے قرضوں کی ادائیگی پر جتنی رقم خرچ کرتے ہیں وہ ان کے صحت اور تعلیم کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس طرح ان کے پاس 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ ان میں بیشتر کو متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جس کے باعث یہ ایسے غریب ترین ممالک کی فہرست میں بھی نہیں آتے جنہیں قرض کی ادائیگی میں سہولت کے لیے مالی مدد ملنے کا امکان ہو۔
تین نکاتی لائحہ عمل
اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے اینٹیگوا اینڈ باربوڈا کی وزیراعظم کی جانب سے معاشی عدم تحفظ کے کثیرالجہتی اشاریے کی تیاری کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان ممالک کی ضروریات کی حقیقی عکاسی ہوتی ہے۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ 'ایس آئی ڈی ایس' کو پائیدار ترقی کے لیے فوری مالی مدد کی فراہمی کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے تین طرح کے اقدامات درکار ہیں۔
سب سے پہلے ان پر قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے موثر طریقہ ہائے کار وضع کرنا ہوں گے۔ اس میں معاشی اعتبار سے مشکل ادوار میں قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی سہولت بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ قرض کی فراہمی کے طریقہ ہائے کار میں بھی تبدیلی لانا ہو گی جس میں کم شرح سود پر رعایتی قرضوں کی فراہمی خاص طور پر اہم ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا معاشی عدم تحفظ سے متعلق کثیرالجہتی اشاریہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تیسری بات یہ کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں سڈزکو بھی نمائندگی ملنی چاہیے۔
عالمی مالیاتی نظام کی ناکامی
سیکرٹری جنرل نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام عمومی طور پر ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر 'ایس آئی ڈی ایس' کو فائدہ پہنچانے میں ناکام ہو گیا ہے۔
انہوں نے ستمبر میں ہونے والی 'کانفرنس برائے مستقبل' کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی رہنماؤں کے لیے سڈز کے لائحہ عمل برائے ترقی کو آگے بڑھانے کا نادر موقع ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حالات کو تبدیل کیا جائے اور ایسا عالمگیر مالیاتی مستقبل تخلیق ہو جس میں جزائر پر مشتمل کوئی ملک پیچھے نہ رہے۔
بہتر، دلیرانہ اور بڑے فیصلے
اس اجلاس میں انتونیو گوتیرش نے خود کو 'دنیا کا شہری' قرار دیتے ہوئے اپنے سامنے میز پر سیکرٹری جنرل کے نام کی تختی ہٹا دی۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں اب تک بہت سے مثبت اقدامات ہوئے ہیں۔ تاہم مسائل ہیں کہ فارمولا ون کار کی سی رفتار سے بڑھے آ رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں بہتری ٹریبینٹ کار کی رفتار کے برابر ہے جو انہوں نے 1970 کی دہائی میں مشرقی جرمنی میں دیکھی تھی۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بیک وقت بہتر، دلیرانہ اور بڑے فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہو گا۔ اس وقت یہ ادارے 'بہت چھوٹے' ہیں اورسڈز سمیت دیگر ممالک کی مدد کے لیے ان کے سرمایے میں بڑے پیمانے پر اضافہ درکار ہے۔