انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش: سمندری طوفان ریمل سے 32 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ

خلیج بنگال میں آنے والے اس طوفان سے ابتداً بھولا، پٹواکھلی اور باگرہاٹ کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
© UNICEF/Salahuddin Ahmed Paulash/Drik
خلیج بنگال میں آنے والے اس طوفان سے ابتداً بھولا، پٹواکھلی اور باگرہاٹ کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش: سمندری طوفان ریمل سے 32 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سمندری طوفان ریمل سے ساحلی علاقوں میں 32 لاکھ بچوں سمیت 84 لاکھ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

خلیج بنگال میں آنے والے اس طوفان سے ابتداً بھولا، پٹواکھلی اور باگرہاٹ کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

Tweet URL

یونیسف کی امدادی ٹیمیں طوفان کی اطلاع ملنے کے وقت سے ساحلی علاقوں میں لوگوں کو مدد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ادارے نے پانی صاف کرنے والی گولیاں، جیری کین، موبائل ٹوائلٹ، صحت و صفائی کا سامان اور دیگر اشیا ملک بھر میں واقع اپنے 35 گوداموں میں تیار رکھی ہیں تاکہ جب ضرورت پڑے انہیں متاثرہ لوگوں کو اور پناہ گاہوں میں پہنچایا جا سکے۔

امدادی اقدامات

ادارے کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی حکومت اور اپنے شراکت داروں کے تعاون سے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو فوری مدد پہنچانے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ لوگوں کی زندگیوں بالخصوص بچوں کو تحفظ دینا ادارے کی ترجیح ہے جو ایسی قدرتی آفات میں دوسروں سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتے ہیں۔

ملک کے لیے یونیسف کے نمائندے شیلڈن ییٹ نے بتایا ہے کہ طوفان سے متاثرہ آبادیوں میں صحت، غذائیت، نکاسی آب اور تحفظ کے حوالے سے سنگین خطرات درپیش ہیں۔

وسائل کی قلت

ان کا کہنا ہے کہ یونیسف نے جن ساحلی علاقوں میں مدد پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے ان میں کاکس بازار میں واقع روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ بھی شامل ہیں۔ تاہم امدادی وسائل کی قلت کے باعث فوری ضروریات کی تکمیل خاص طور لڑکیوں، خواتین اور جسمانی معذور افراد تک رسائی میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیسف اس مشکل وقت میں بنگلہ دیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں اس طوفان سے بچنے اور اس کے بعد بحالی کے لیے ہرممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔