سڈز 4 کانفرنس: مستقبل کے لائحہ عمل پر غوروخوص شروع
چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک (ایس آئی ڈی ایس یا سڈز) کی چوتھی عالمی کانفرنس اینٹیگوا اینڈ باربوڈا میں شروع ہو گئی ہے جس میں ان ممالک کو بڑے عالمی مسائل کا مقابلہ کرنے اور پائیدار ترقی میں مدد دینے کے لیے ایک دلیرانہ اور انقلابی لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
سڈز کے مستقبل پر اثرانداز ہونے والے اہم مسائل پر بات چیت کے لیے دنیا بھر سے حکومتی رہنما، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندے، علمی ماہرین اور نوجوان اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ 'مستقبل کے لیے لائحہ عمل کی تیاری' کے عنوان سے اس کانفرنس میں 'ایس آئی ڈی ایس' کو موسمیاتی تبدیلی، قرضوں کے بوجھ اور طبی بحرانوں سے لاحق مسائل کے عملی حل پیش کیے جائیں گے۔
کانفرنس میں سڈز کے لیے 'اینٹیگوا اینڈ باربوڈا ایجنڈا' کی منظوری بھی دی جائے گی۔ یہ پائیدار ترقی کے لیے ایک نیا اور پرعزم اعلامیہ ہے جس میں آئندہ 10 برس کے لیے ان ممالک کے پائیدار ترقی کے حوالے سے عزائم طے کیے گئے ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں اس مقصد کے لیے بین الاقوامی برادری سے کون سی مدد درکار ہو گی۔
غرب الہند میں واقع اینٹیگوا اینڈ باربوڈا کے دارالحکومت سینٹ جان میں ہونے والی یہ کانفرنس 30 مئی تک جاری رہے گی۔
پائیدار ترقی کا نیا ایجنڈا
کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ سڈز کے لیے نیا ایجنڈا عالمی برادری کی شراکت سے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات طے کرتا ہے۔
انہوں نے ان ممالک کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کے ہر شعبے میں اپنی مستحکم شراکت کے ذریعے عملی جامہ پہنائیں۔ تاہم سڈز کے لیے اکیلے یہ سب کچھ کرنا ممکن نہیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اپنے مقاصد کے حصول میں مدد دے۔ اس میں ان ممالک کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا جن پر عالمگیر مسائل سے نمٹنے کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ اس کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔
انہوں نے چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو روکنے، مضبوط معیشتوں اور صاف، صحت مند و خوشحال معاشروں کی تعمیر، پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت، سمندر اور اس کے وسائل کے تحفظ اور ان کے مستحکم استعمال میں انہیں ہرممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
خوشحال مستقبل کا موقع
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے معاشی و سماجی امور اور کانفرنس کے سیکرٹری جنرل لی جُنہوا نے کہا کہ نیا ایجنڈا سڈزکی داستان، ان کے سفر، ان کی امیدوں اور مسائل کا عکاس ہے۔ لیکن، اہم ترین بات یہ ہے کہ اس سے ان مخصوص اقدامات کا اندازہ بھی ہوتا ہے جو ممالک، ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ فریقین کو 'ایس آئی ڈی ایس' کے لیے اٹھانا ہیں۔
ایسے اقدامات کی بدولت ان ممالک کو ناصرف اپنے لوگوں بلکہ پوری دنیا کے لیے خوشحال اور مستحکم مستقبل کے حصول میں مدد ملے گی اور اس راہ پر پیش رفت کی نگرانی بھی ہو سکے گی۔
لی جُنہوا نے کہا کہ یہ ممالک اس کانفرنس سے باہمی تعاون بڑھانے اور اس کی تجدید، اختراعی مالیاتی طریقہ ہائے کار وضع کرنے اور ایسے ٹھوس اقدامات شروع کرنے کا کام لیں گے جن سے ان کا مستقبل مستحکم ہو سکے گا۔
سڈز کی اہمیت
بحر الکاہل، غرب الہند، اوقیانوس، بحر ہند اور جنوبی بحیرہ چین میں واقع چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ ہے۔ دنیا کے خصوصی معاشی علاقوں اور وسائل کا 19.1 فیصد انہی کے زیرانتظام ہے۔
یہ ممالک بلند درجے کے حیاتیاتی تنوع کے حامل ہیں اور دنیا کے 14 فیصد ساحل انہی کے پاس ہیں۔ توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے بھی سب سے پہلے انہی ممالک نے کام لیا تھا اور پائیدار سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تحفظ ماحول اور سمندری بنیاد پر معیشت کو ترقی دینے میں بھی ان ممالک نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔