انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاپوا نیوگنی: پہاڑی تودوں کی زد میں آئے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ

جمعہ مئی 24 کو یمبالی گاؤں میں مٹی کے تودے گرنے سے سینکڑوں لوگ دب گئے جن کی تلاش جاری ہے۔
IOM/ Mohamud Omer
جمعہ مئی 24 کو یمبالی گاؤں میں مٹی کے تودے گرنے سے سینکڑوں لوگ دب گئے جن کی تلاش جاری ہے۔

پاپوا نیوگنی: پہاڑی تودوں کی زد میں آئے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ

انسانی امداد

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ پاپوا نیوگنی میں جمعے کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد 670 افراد مٹی کے تودوں تلے دب گئے ہیں جن کے زندہ بچ جانے کی امیدیں وقت کے ساتھ دم توڑتی جا رہی ہیں۔

ملک میں 'آئی او ایم' کے سربراہ سرہان اکٹوپریک کے مطابق اس آفت کے نتیجے میں ملک کے شمالی پہاڑی صوبے انگا میں یمبالی نامی گاؤں مٹی کی چھ سے آٹھ میٹر تہہ تلے دب گیا ہے۔ اندازے کے مطابق، کم از کم 150 گھر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئے ہیں جن کے مکینوں کے زندہ بچنے کے امکانات اب بہت محدود رہ گئے ہیں۔

Tweet URL

آئی ایم او کے علاوہ اقوام متحدہ اور حکومتی امدادی اداروں کے کارکن بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں۔ ان لوگوں کو اپنے کام میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پہاڑ سے پانی بدستور بہہ رہا ہے، زمین اب بھی پھسلواں ہے اور بلندی سے گرتے پتھر امدادی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔ 

امدادی کوششیں

براعظم اوشیاینیا میں واقع ملک پاپوا نیوگنی میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے متاثرہ علاقے میں مواصلاتی نظام اور سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ہنگامی امدادی اقدامات کے لیےسرکاری محکموں، پولیس، افواج اور اقوام متحدہ کے اداروں پر مشتمل ٹیم بنا دی گئی ہے جو خوراک، پناہ اور طبی سازوسامان کے حوالے سے بنیادی ضروریات کا تعین کر رہی ہے۔ 

لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اس علاقے میں تقریباً ایک ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سرہان اکٹوپریک کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن لوگوں اور لاشوں کی تلاش کے لیے بیلچوں اور لاٹھیوں سمیت ہر دستیاب شے سے کام لے رہے ہیں۔ انگا صوبے کو جانے والی واحد سڑک کے بڑے حصے پر پہاڑی تودوں کا ملبہ گرا ہے جس کے بعد جائے حادثہ تک رسائی آسان نہیں رہے۔ متوقع طور پر آج بھاری مشینری متاثرہ علاقے میں پہنچ جائے گی جس سے ملبہ ہٹانے میں آسانی ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور امدادی کارروائیوں کے لیے قومی و صوبائی حکام بشمول دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ نقصان، ہلاکتوں اور درکار مدد کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔