انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: مارخور کے تحفظ کے عالمی دن پر علاقائی تعاون پر زور

طویل بل دار سینگوں والا یہ جانور زیادہ تر وسطی ایشیا اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔
Anton Volnuhin/Unsplash
طویل بل دار سینگوں والا یہ جانور زیادہ تر وسطی ایشیا اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔

پاکستان: مارخور کے تحفظ کے عالمی دن پر علاقائی تعاون پر زور

موسم اور ماحول

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مارخور کا پہلا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار اس جانور کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں پائی جاتی ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ باقی دنیا میں اس کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔

یہ دن منانے کا مقصد مارخور اور اس کے قدرتی مساکن کو تحفظ دینے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر تعاون بڑھانے کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

Tweet URL

2 مئی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان سمیت نو ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے 24 مئی کو مارخور کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ مجموعی ماحولیاتی نظام میں مارخور کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے قدرتی مساکن کو تحفظ دینا بہت ضروری ہے جبکہ 2014 میں اس کی نسل معدومیت کے دھانے پر پہنچ گئی تھی۔ 

پاکستان کا قومی ورثہ

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا ہے کہ مارخور طویل عرصہ سے پاکستان کا قومی ورثہ چلا آ رہا ہے اور آج یہ عالمی ورثہ بھی بن گیا ہے۔ مارخور نا صرف ماحولیاتی نظام کو اس کی حقیقی صورت میں قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ان کی بدولت حکومت پاکستان کے 'زندہ دریائے سندھ' اقدام کی مطابقت سے جانوروں کے تحفظ کی کوششوں میں بہتری آنے اور پائیدار سیاحت و معاشی ترقی کے مواقع کھلنے کا امکان بھی ہوتا ہے۔ 

گزشتہ دس برس سے پاکستان میں مارخور کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو اب 3,500 سے  5,000کے درمیان پہنچ گئی ہے۔ اس میں جانوروں کو تحفظ دینے کے لیے ملک کے فعال پروگراموں اور اس ضمن میں مقامی لوگوں کی شمولیت سے کیے جانے والے اقدامات کا اہم کردار ہے۔ 

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مارخور کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اس وقت کرہ ارض پر 6,000 سے بھی کم بالغ مارخور موجود ہیں۔

مارخور جن دوسرے علاقوں میں پایا جاتا ہے ان میں وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان، اور انڈیا شامل ہیں۔

تعاون کی اہمیت

طویل بل دار سینگوں والا یہ جانور پاکستان میں گلگت بلتستان، چترال، وادی کالاش، ہنزہ، اور بلوچستان میں ملتا ہے۔ 

مارخور اونچائی سے چھلانگیں لگانے میں مہارت رکھتا ہے اور ترچھے یا تقریباً عمودی پہاڑوں پر بھی باآسانی چڑھ سکتا ہے۔ عام طور پر یہ 600 سے 3,500 میٹر بلندی تک پایا جاتا ہے۔ 

قدرتی وسائل کے تحفظ کے بین الاقوامی ادارے (آئی یو سی این ) کے مطابق مارخور کا شمار ایسے جانوروں میں ہوتا ہے جن کی نسل کو معدومیت کے خطرات لاحق ہیں۔ مساکن کا خاتمہ، غیرقانونی شکار اور موسمیاتی تبدیلی کا شمار ایسے نمایاں خطرات میں ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد میں مارخور کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی و علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں ہونے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کریں۔